ایران کے صدر کا امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار تاہم سفارت کاری کی اہمیت پر زور
تہران نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجے گا یا نہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے حوالے سے بتایا کہ صدر پزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں ’خبردار رہنا اور عدم اعتماد ایک ’ناقابلِ تردید ضرورت‘ ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، جبکہ امریکی نمائندے پیر کے روز ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔
تاہم تہران نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ پاکستان میں مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجے گا یا نہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک باخبر مگر نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کے ’ضرورت سے زیادہ اور غیر معقول‘ مطالبات اور اس کے بدلتے ہوئے مؤقف کے باعث مذاکرات کے دوسرے دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
دونوں مخالف فریق آبنائے ہرمز کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں، جہاں ایران نے سمندری آمد و رفت پر کنٹرول سخت کر دیا ہے جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے اور اتوار کے روز ایک ایسے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا جو امریکی ناکہ بندی سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران اور امریکہ دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ’ماضی کے طریقوں کو دہرانے اور سفارت کاری سے دھوکہ دہی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
