Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

منبرِ رسول: مسجدِ نبوی کی تاریخی اور روحانی علامت

مِنبر رسول، روضہ الشریفہ کی مغربی سمت واقع ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مسجدِ نبوی میں پیغمبرِ اسلامﷺ کا منبر بنیادی تاریخی اور روحانی حیثیت کا حامل ہے۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر اِسے ہجرت کے آٹھویں برس مسجد میں نصب کیا گیا تھا تاکہ بیٹھے ہوئے ہجوم کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دے سکیں اور وہ اُن کی آواز بھی سُن سکیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جب یہ مِنبر بنا تھا تو اس میں تمرسک کی لکڑی استعمال کی گئی۔ اُس وقت اس کے تین قدمچے تھے۔ تاہم کچھ عرصے بعد، تمرسک کی لکڑی کو کھجور کے تنے کی لکڑی سے بدل دیا گیا۔ یہ وہی کھجور کا درخت تھا جس پر ٹیک لگا کر پیغمبرِ اسلام تبلیغ کا فرض ادا کیا کرتے تھے۔
منبرِ رسول کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں جن سے اِس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ایک روایت کے مطابق خود پیغمبرِ اسلام نے کہا کہ اِن کے مِنبر اور گھر کے درمیان کا مقام وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک باغ اور گلشنِ بہشت کا۔
مِنبر رسول، روضہ الشریفہ کی مغربی سمت واقع ہے۔ آج وہاں جو مِنبر ہے اس کی اونچائی پانچ میٹر ہے۔ اس کے داخلے پر شہادہ کی عبارت درج ہے اور اس کا لکڑی کا دروازہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھیں تو امام کے لیے زینہ آتا ہے۔

مِنبر کے پورے ڈھانچے کے اِرد گِرد دھات کی بنی ہوئی ریلنگ ہے جس پر سونے کے پانی سے ملمع کاری کی گئی ہے۔ یہ سب عناصر اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسجدِ نبوی میں تعمیر کردہ تمام جگہوں کی مسلسل دیکھ بھال اور نگہداشت کی جاتی ہے تاکہ اُن کے تعمیراتی تحفظ میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔

شیئر: