آئی ٹی برآمدات میں اضافہ: کیا فری لانسرز پاکستان کی معاشی سمت بدل سکتے ہیں؟
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ: کیا فری لانسرز پاکستان کی معاشی سمت بدل سکتے ہیں؟
بدھ 18 مارچ 2026 7:05
زین علی -اردو نیوز، کراچی
ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فری لانسرز کی مجموعی تعداد تقریباً 23.7 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔( فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں جاری اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف سرکاری اعداد و شمار ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں دوسری جانب فری لانسرز اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی حالات اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال اور بین الاقوامی کاروباری رجحانات میں تبدیلی پاکستانی فری لانسرز کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی برآمدات 2.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 2.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں 19.6 فیصد زیادہ ہیں۔
تاہم اگر ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو دسمبر 2025 میں 437 ملین ڈالر سے کم ہو کر جنوری میں 374 ملین ڈالر اور فروری میں 365 ملین ڈالر تک آنے والی برآمدات ایک عارضی سست روی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔
فری لانسرز، اُبھرتی ہوئی قوت
پاکستان میں فری لانسنگ کا شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اب یہ محض ایک متبادل ذریعۂ آمدن نہیں بلکہ ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فری لانسرز کی مجموعی تعداد تقریباً 23.7 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، اور اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’فری لانسرز نہ صرف آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام دلانے میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔'
آئی ٹی اور اس سے منسلک کمپنیاں اب اپنے کئی شعبے آؤٹ سورس کر رہی ہیں، جس سے فری لانسرز کے لیے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ماہر آئی ٹی ڈاکٹر نعمان سید نے اس حوالے سے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں خاص طور پر نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم اس صلاحیت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے منظم معاونت اور سکل ڈویلپمنٹ ناگزیر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آئی ٹی کمپنیوں کا کردار سکل گیپس کو ختم کرنے اور فری لانسرز کو عالمی سطح پر مواقع فراہم کرنے میں نہایت اہم ہے۔‘
ان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالر سے زائد زرِمبادلہ کمایا ہے، اور توقع ہے کہ یہ رقم سال کے اختتام تک ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال اور نئے مواقع
حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال نے بھی عالمی لیبر مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ پروازوں میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی، اور علاقائی کشیدگی کے باعث روایتی روزگار کے مواقع محدود ہوئے ہیں۔
چیئرمین پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن ابراہیم امین کے مطابق عالمی سطح پر ایئر ٹریفک کی سست روی کے باعث کمپنیوں کے درمیان براہ راست کاروباری روابط میں کمی آئی ہے جس کے باعث کمپنیاں اب فری لانسرز کے ذریعے اپنے منصوبے مکمل کروانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
پاکستانی فری لانسرز عالمی پلیٹ فارمز پر متحرک ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’دنیا بھر کی کمپنیاں اپنے پراجیکٹس آؤٹ سورس کر رہی ہیں، جس سے فری لانسرز کو زیادہ کام ملنے کی توقع ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ہنر مند افرادی قوت نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے۔‘
عالمی معاشی حالات اور آؤٹ سورسنگ کا رجحان
دنیا بھر میں اس وقت کاروبار اور سرمایہ کاری کا رجحان کسی حد تک کم ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور غیریقینی معاشی حالات ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال میں کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے مستقل ملازمین رکھنے کی بجائے فری لانسرز کو ترجیح دے رہی ہیں۔
آئی ٹی اور اس سے منسلک کمپنیاں اب اپنے کئی شعبے آؤٹ سورس کر رہی ہیں، جس سے فری لانسرز کے لیے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی فری لانسرز، جو پہلے ہی عالمی پلیٹ فارمز پر متحرک ہیں، اس رجحان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تربیت اور سکل ڈیولپمنٹ کی ضرورت
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن اس کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
ڈاکٹر نعمان سعید کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سکل ڈیولپمنٹ اور کیپیسٹی بلڈنگ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس حوالے سے نجی شعبے کا کردار غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔
ان کے مطابق ان کا ادارہ فری لانسرز اور طلبہ کے لیے تربیتی سہولیات فراہم کر رہا ہے، اور مختلف تنظیموں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹس تک رسائی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کہتی ہیں آئی ٹی برآمدات کا سہرا حکومت اور نجی شعبے کی شراکتداری اور فری لانسرز کے سر ہے۔ (فوٹو: پی ٹی اے)
انہوں نے مزید بتایا کہ ’مشترکہ تربیتی پروگرامز اور نالج شیئرنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے فری لانسرز کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنایا جائے گا۔‘
چیلنجز اور آگے کا راستہ
اگرچہ مواقع بڑھ رہے ہیں، لیکن اس شعبے کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن میں ادائیگیوں کے مسائل، پلیٹ فارمز کی فیس، اور پالیسی سطح پر عدم تسلسل شامل ہیں۔
ماہرین ان تمام تر حالات کے باوجود پُرامید ہیں کہ اگر حکومتی اور نجی سطح پر مشترکہ کوششیں جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں ایک مضبوط مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کامیابی کے پیچھے فری لانسرز کی محنت اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، عالمی معاشی دباؤ، اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اس شعبے کو نئی سمت دے رہا ہے۔
ان مواقع سے اگر مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے، تو پاکستانی فری لانسرز نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی عالمی ڈیجیٹل نقشے پر ایک نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔