پٹنہ، بہار کی ایک کراوڈڈ کلاس، سفید بورڈ پر تیزی سے چلتا مارکر، اور سامنے ایک درمیانے قد کا، چھوٹی داڑھی والا ٹیچر۔ نہ کوئی خشک لیکچر، نہ مشکل ثقیل اصطلاحات۔
ہلکی پھلکی گپ شپ کے انداز میں مشکل موضوعات کو بیان کرنا، روزمرہ کی مثالیں، درمیان میں لطیفہ، کبھی دلچسپ نقالی۔ زیادہ تر معیشت، سکیورٹی اور عالمی امور پر گفتگو۔ ان مشکل اورپیچیدہ موضوعات کو یوں سمجھانا کہ وہ پانی ہوجائیں۔
یہ ’خان سر‘ کے نام سے مشہور ایک انڈین ٹیچر ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران یوٹیوب پر خان سر کے لیکچر غیر معمولی مقبول ہوئے۔ اس کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کئی ملین ہو چکے، ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے ہیں۔ ’
اسے انڈیا کا مقبول ترین آن لائن ٹیچر بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس ٹیچر کا اصل نام اور دھرم کیا ہے؟
بعض کہتے فیصل خان، کوئی اور نام لیتا، مگر کنفرم کچھ نہیں۔ اس کے لاکھوں کروڑوں شاگرد اسے خان سر کہتے اور وہ خود بھی اپنا تعارف اسی نام سے کراتا۔
مزید پڑھیں
پچھلے ڈیڈھ دو برسوں میں یہ نوٹ کیا گیا کہ جب لیکچر کے بیچ میں جب بات پاکستان کی طرف مڑتی ہے تو انداز بدل جاتا ہے۔ وہی ہلکی پھلکی گفتگو تندو تیز ہو جانی۔ مثال کٹیلے منفی طنز میں ڈھل جاتی اور ایک پورا ملک چند کاٹ دار زہریلے جملوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک مقبول ومعروف ٹیچر بھی انڈیا میں چلتی تعصب کی آندھی کا ایسا شکار ہوا کہ وہ اب الٹرا نیشنلسٹ متعصب ٹیچر بن گیا۔
اسی ڈیجیٹل ٹیچر خان سر کے ایک پوڈ کاسٹ کا کلپ مجھے ایک دوست نے تین چار دن قبل بھیجا۔ انڈیا کے ایک معروف پوڈ کاسٹ ہوسٹ راج شمانی نے یہ انٹرویو کیا۔
راج شمانی کے بارے میں اس سے قبل میرا اچھا تاثر تھا کہ وہ تیاری کر کے اہم موضوعات پر ماہرین کے بھرپور انٹرویو کرتا ہے۔ خان سر کے پوڈ کاسٹ نے یہ تاثر پاش پاش کر دیا۔
سوا گھنٹے سے زیادہ طویل پوڈ کاسٹ میں ٹیچر خان نے پہلے امریکہ اورایران جنگ اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر گفتگو کی اور پھر پاکستان پر حملہ آور ہوگیا۔ پاکستان اور پاکستانی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ یہاں تک تو غنیمت تھا کہ ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ انڈیا میں اب کسی نام نہاد مسلمان کے لیے بھی اپنی حب الوطنی دکھانے کا واحد طریقہ پاکستان پر تنقید کرنا ہی ہے۔
اس ٹیچر خان نے مگر حد ہی کر دی۔ بار بار تضحیک آمیز جملے کسے، کبھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرانے کی پیش گوئی کی اور اسے انڈین نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دول کا ڈریم پراجیکٹ قرار دیا، کبھی وہ پاکستان کی معیشت کا مذاق اڑاتا رہا۔
پھر اچانک اس ٹیچر خان پر گویا پاگل پن کا دورہ پڑا اور نہایت گھٹیا انداز میں کہنے لگا کہ پاکستان سروائیو نہیں کر سکے گا، ہماری طرف آئے گا مگر ہمیں پاکستانی نہیں چاہئیں، صرف پاکستان ہو۔ پاکستانی آئیں گے تو ہم ان کے آرگن (اعضا)نکال کر کڈنی بینک، لیور بینک، آئی بنک وغیرہ بنا دیں گے، دنیا کا سب سے بڑا آرگن بینک۔اس تذلیل آمیز اور گھٹیا ترین بلکہ شرمناک جملوں پر راج شمانی حد درجہ بے حیائی اور ڈھٹائی سے مسکراتا رہا۔ گویا یہ کروڑوں انسانوں کی بات ہی نہیں ہو رہی۔
یہ پوڈ کاسٹ ختم ہوا تو میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک استاد اس قدر گھٹیا، کم ظرف اور پست سوچ کا حامل ہو سکتا ہے۔ کیسے ایک استاد، جس کا کام شعور دینا تھا، اب ’آرگن ٹریفکنگ‘ اور کروڑوں لوگوں کی ’نسل کشی‘ کی باتیں کر رہا ہے۔











