Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جہاں تعصب کی آندھی سب چراغ بجھا رہی: عامر خاکوانی کا کالم

پوڈ کاسٹ میں ٹیچر خان نے پہلے امریکہ اورایران جنگ پر گفتگو کی اور پھر پاکستان پر حملہ آور ہوگیا: فوٹو سکرین گریب
پٹنہ، بہار کی ایک کراوڈڈ کلاس، سفید بورڈ پر تیزی سے چلتا مارکر، اور سامنے ایک درمیانے قد کا، چھوٹی داڑھی والا ٹیچر۔ نہ کوئی خشک لیکچر، نہ مشکل ثقیل اصطلاحات۔
ہلکی پھلکی گپ شپ کے انداز میں مشکل موضوعات کو بیان کرنا، روزمرہ کی مثالیں، درمیان میں لطیفہ، کبھی دلچسپ نقالی۔ زیادہ تر معیشت، سکیورٹی اور عالمی امور پر گفتگو۔ ان مشکل اورپیچیدہ موضوعات کو یوں سمجھانا کہ وہ پانی ہوجائیں۔
یہ ’خان سر‘ کے نام سے مشہور ایک انڈین ٹیچر ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران یوٹیوب پر خان سر کے لیکچر غیر معمولی مقبول ہوئے۔ اس کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کئی ملین ہو چکے، ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے ہیں۔ ’
اسے انڈیا کا مقبول ترین آن لائن ٹیچر بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس ٹیچر کا اصل نام اور دھرم کیا ہے؟
بعض کہتے فیصل خان، کوئی اور نام لیتا، مگر کنفرم کچھ نہیں۔ اس کے لاکھوں کروڑوں شاگرد اسے خان سر کہتے اور وہ خود بھی اپنا تعارف اسی نام سے کراتا۔
پچھلے ڈیڈھ دو برسوں میں یہ نوٹ کیا گیا کہ جب لیکچر کے بیچ میں جب بات پاکستان کی طرف مڑتی ہے تو انداز بدل جاتا ہے۔ وہی ہلکی پھلکی گفتگو تندو تیز ہو جانی۔ مثال کٹیلے منفی طنز میں ڈھل جاتی اور ایک پورا ملک چند کاٹ دار زہریلے جملوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک مقبول ومعروف ٹیچر بھی انڈیا میں چلتی تعصب کی آندھی کا ایسا شکار ہوا کہ وہ اب الٹرا نیشنلسٹ متعصب ٹیچر بن گیا۔
اسی ڈیجیٹل ٹیچر خان سر کے ایک پوڈ کاسٹ کا کلپ مجھے ایک دوست نے تین چار دن قبل بھیجا۔ انڈیا کے ایک معروف پوڈ کاسٹ ہوسٹ راج شمانی نے یہ انٹرویو کیا۔
راج شمانی کے بارے میں اس سے قبل میرا اچھا تاثر تھا کہ وہ تیاری کر کے اہم موضوعات پر ماہرین کے بھرپور انٹرویو کرتا ہے۔ خان سر کے پوڈ کاسٹ نے یہ تاثر پاش پاش کر دیا۔
سوا گھنٹے سے زیادہ طویل پوڈ کاسٹ میں ٹیچر خان نے پہلے امریکہ اورایران جنگ اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر گفتگو کی اور پھر پاکستان پر حملہ آور ہوگیا۔ پاکستان اور پاکستانی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ یہاں تک تو غنیمت تھا کہ ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ انڈیا میں اب کسی نام نہاد مسلمان کے لیے بھی اپنی حب الوطنی دکھانے کا واحد طریقہ پاکستان پر تنقید کرنا ہی ہے۔
اس ٹیچر خان نے مگر حد ہی کر دی۔ بار بار تضحیک آمیز جملے کسے، کبھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرانے کی پیش گوئی کی اور اسے انڈین نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دول کا ڈریم پراجیکٹ قرار دیا، کبھی وہ پاکستان کی معیشت کا مذاق اڑاتا رہا۔
پھر اچانک اس ٹیچر خان پر گویا پاگل پن کا دورہ پڑا اور نہایت گھٹیا انداز میں کہنے لگا کہ پاکستان سروائیو نہیں کر سکے گا، ہماری طرف آئے گا مگر ہمیں پاکستانی نہیں چاہئیں، صرف پاکستان ہو۔ پاکستانی آئیں گے تو ہم ان کے آرگن (اعضا)نکال کر کڈنی بینک، لیور بینک، آئی بنک وغیرہ بنا دیں گے، دنیا کا سب سے بڑا آرگن بینک۔اس تذلیل آمیز اور گھٹیا ترین بلکہ شرمناک جملوں پر راج شمانی حد درجہ بے حیائی اور ڈھٹائی سے مسکراتا رہا۔ گویا یہ کروڑوں انسانوں کی بات ہی نہیں ہو رہی۔
یہ پوڈ کاسٹ ختم ہوا تو میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک استاد اس قدر گھٹیا، کم ظرف اور پست سوچ کا حامل ہو سکتا ہے۔ کیسے ایک استاد، جس کا کام شعور دینا تھا، اب ’آرگن ٹریفکنگ‘ اور کروڑوں لوگوں کی ’نسل کشی‘ کی باتیں کر رہا ہے۔

 

یہی خیال آیا کہ اگر یہ شخص کسی مہذب ملک میں ہوتا تو اس کے خلاف شدید ترین عوامی ردعمل آ چکا ہوتا، اسے اعلانیہ معافی مانگنا پڑتی۔ اس کے باوجود بھی اس کا یوٹیوب کیرئر ختم ہو جاتا۔ انڈیا میں مگر اس انٹرویو کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ یہ سوشل میڈیا پر سپر ہٹ ہوا۔ خان سر، اجیت دول ڈریم اور دیگر ہیش ٹیگ کے ساتھ اس کے کلپس وائرل ہوئے۔ اینکر راج شمانی کی مکروہ مسکراہٹ والا چہرہ بھی ان کلپس میں نمایاں تھا۔
افسوس کہ انڈیا میں چلتی تعصب کی آندھی نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیاست اور میڈیا پر تو خیر اس کے اثرات پڑے ہی ہیں، مگر اس نے کیا استاد، کیا فنکار، کیا کھلاڑی ہر ایک کے ذہن ماوف کر دئیے ہیں۔
سنیل گواسکر انڈیا کے مشہور کھلاڑی ہیں۔ پاکستان میں گواسکر کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر حال ہی میں اسی سنیل گواسکر نے ایک ایسا بیان دیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ابرار احمد پاکستان کے معروف مسٹری لیگ سپنر ہیں۔ انگلینڈ میں دی ہنڈرڈ کے نام سے ٹی 20 لیگ شروع ہونے والی ہے۔ اس لیگ میں مختلف ٹیمیں ہیں جن میں سے ایک ٹیم کے مالکان وہی ہیں جنہوں نے آئی پی ایل میں بھی ایک ٹیم خرید رکھی ہے۔
سدرن بریو نام کی اس ٹیم کی مالکن ایک خاتون ہیں، انہوں نے اس سال کی ہنڈرڈ لیگ کے لیے پاکستان سپنر ابرار احمد کو ہائر کر لیا۔ یہ ایک نارمل بات ہے کیونکہ یہ انڈیا کی لیگ نہیں، یہ انگلش لیگ ہے،انگلینڈ میں کھیلی جانی ہے، انگلش تماشائی اسے دیکھنے آئیں گے۔
وہاں مختلف ٹیموں میں مختلف ممالک کے غیر ملکی کھلاڑی کھیلیں گے۔ اب چونکہ یہ اتفاق ہے کہ اس ٹیم کی مالکن انڈین نژاد ہے اور آئی پی ایل میں بھی اس کی ٹیم ہے تو اس پر تنقید شروع ہوگئی کہ اس نے پاکستانی کھلاڑی کو کیوں ہائر کیا۔ سوشل میڈیاپر شور مچا۔
چلیں سوشل میڈیا کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہاں جذباتی، ناسمجھ لوگوں کی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے۔ سنیل گواسکر جیسے پختہ عمر، تجربہ کار بڑے کھلاڑیوں کا رویہ مختلف ہونا چاہیے۔ گواسکر نے شائد سوچا کہ اس عمر میں تعصب کی ندی میں غوطہ لگا ہی لوں۔ اپنے کالم میں لکھا،’پاکستانی کھلاڑی کو دی جانے والی فیس بالواسطہ طور پر انڈین فوجیوں اور شہریوں کی موت کا سبب بنتی ہے، کیونکہ وہ کھلاڑی اپنی حکومت کو ٹیکس دیتا ہے جس سے اسلحہ خریدا جاتا ہے۔‘
حد ہی ہوگئی یعنی ایک سپنر جس کا کام کرکٹ کھیلنا ہے، اگر وہ دی ہنڈرڈ لیگ میں کھیلے گا تو اس سے پاکستانی فوجیوں کی مدد ہوگی اور وہ اسلحہ خریدیں گے؟ یقین نہیں آتا کہ ایسی بچکانہ اور احمقانہ بات سنیل گواسکر نے کہی ہے۔ ایسا مگر ہوا ہے۔
انڈین کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر تو اپنے پاکستان مخالف بلکہ مسلم مخالف بیانات کی وجہ سے خاصے بدنام ہیں۔ سابق کرکٹرز عرفان پٹھان وغیرہ بھی اپنے تعصب کی کئی مثالیں پیش کر چکے ہیں۔ یہی عرفان پٹھان تب خوشی سے ناچنے لگے تھے جب افغان ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو ایک میچ میں ہرایا۔ تب خود انڈین صحافیوں نے طعنہ دیا کہ عرفان پٹھان اپنی حب الوطنی ثابت کرتے ہوئے اوور ہو گئے۔
اس کا ایک اور پہلو بالی وڈ انڈسٹری میں بڑھتی عدم برداشت اور شدید پاکستان مخالف جذبات ہیں۔ کئی معروف فنکار تو باقاعدہ بی جے پی جوائن کر چکے ہیں اور اب وہ کھل کر سنگھ بیانیہ الاپتے ہیں۔
انوپم کھیر،کنگنا رناوت سے لے کر یہ اجے دیوگن اور اب پاریش راول تک پہنچ چکا ہے۔ جہاں کبھی راج کپور، دلیپ کمار جیسے فنکار امن کی بات کرتے تھے، آج وہاں شدید پاکستان مخالف پروپیگنڈہ فلمیں بنتی ہیں ۔ ان میں کام کرنے والے فنکار میڈیا میں بڑھ چڑھ کر پاکستان کے خلاف بولتے اور اپنا امیج بہتر بناتے ہیں۔
پاریش راول نےحال ہی میں ایک متنازع فلم تاج میں کام کیا۔ دراصل یہ تاج محل کے خلاف بنی فلم ہے جس میں ایک اور عجیب وغریب اور تاریخ کے برعکس سازشی تھیوری لانچ کی گئی کہ تاج محل کی جگہ پر دراصل ایک ہندو مندر ’تیجو مہالیہ‘ تھا۔
مزے کی بات ہے کہ بھارت کے تمام معروف اور بڑے مورخین اس کی تردید کرتے ہیں۔ پاریش راول نے مگر اس متنازع فلم میں کام کیا اور پھر ایک بیان میں فرمایا، ’ہمیں اپنی تاریخ کو ان لوگوں سے واپس چھیننا ہے جنہوں نے اسے مسخ کیا۔ تاج محل صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ہماری غلامی کی علامت ہے جسے اب اصل شناخت دینی ہوگی۔‘
یوں دیکھیں تو یہ الگ الگ واقعات نہیں رہتے۔ بات ایک ہی ہے، بس جگہیں بدل جاتی ہیں۔ ایک طرف کلاس روم ہے جہاں ایک استاد بیٹھا زہر اگل رہا ہے۔ دوسری طرف کرکٹ ہے، جہاں کھلاڑیوں کو ٹیم میں کاسٹ کرنا مشکل بنا دیا گیا۔ پھر فلمی دنیا ہے، جہاں کہانی کے اندر تعصب اور جھوٹ گھولا جا رہا۔
یہیں آ کر معاملہ صرف بیانات کا نہیں رہتا۔ جب فضا میں نفرت، تلخی، کڑواہٹ گھل جائے۔ جب مخالف کو انسان کے بجائے صرف دشمن کے طور پر دیکھا جانے لگے، تو پھر جنگیں ناگزیر لگنے لگتی ہیں۔ تاریخ میں اکثر یہی ہوا ہے۔ پہلے زبان شعلے برسانے لگی، دل جل کرسیاہ ہوئے اور پھر سرحدوں پر آگ بھڑک اٹھی۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے کہ تعصب کی یہ آندھی جو امید، امن اور اعتدال کے سب چراغ بجھا رہی ہے۔ یہ انڈیا کو کس جانب لے جائے گی؟ یہ بھی کہ انڈیا میں بڑھتی یہ شدت پسندی ہمارے اوپر کیا افتاد لائے گی؟
افسوس کہ ہم اپنے ہمسایے نہیں بدل سکتے اور نہ ہی ان کا ذہن تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہم صرف آنے والے وقت کے لیے بہت اچھی تیاری ہی کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم پر رحم کرے، آمین۔

شیئر: