عمران خان رہائی فورس کی رجسٹریشن،’قیادت کو حلف دینا ہو گا‘
عمران خان رہائی فورس کی رجسٹریشن،’قیادت کو حلف دینا ہو گا‘
بدھ 25 مارچ 2026 15:04
تحریک انصاف کے مطابق فورس میں پشاور کے کارکن سب سے زیادہ ہوں گے: فائل فوٹو اے ایف پی
صوبہ خیبرپختونخوا میں سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے رضاکار فورس کی رجسٹریشن اور حلف لینے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
پارٹی قیادت نے ورکرز کو نہ صرف رضاکار فورس بنانے کی ہدایت کی ہے بلکہ ان سے باقاعدہ حلف لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی قیادت میں جمعے کو رجسٹریشن کا عمل شروع ہوگا جبکہ اسی موقع پر رضاکاروں سے حلف بھی لیا جائے گا۔
صوبائی صدر جنید اکبر کی طرف سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ’جمعے کو پشاور میں عمران خان رہائی فورس سے حلف لیا جائے گا جس میں وکررز کے ساتھ ساتھ اراکینِ اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔‘
رضاکاروں سے ملاقات میں وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کرے گی۔
پشاور سے منتخب ہونے والے رکنِ صوبائی اسمبلی فضلِ الٰہی نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’پشاور کے ورکروں نے پہلے بھی قربانی دی ہے اور وہ اس بار بھی ہر احتجاجی مظاہرے میں فرنٹ لائن پر موجود رہیں گے۔ عمران خان رہائی فورس کی رجسٹریشن میں پشاور کے کارکن سب سے زیادہ ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان کی رہائی میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے ورنہ کارکن قیادت کے بغیر ہی احتجاج شروع کر دیں گے۔‘
رُکنِ صوبائی اسمبلی فضلِ الٰہی کے مطابق ہم پارٹی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے ہر ویلیج کونسل کی سطح پر سینیئر ورکرز پر مشتمل رضاکاروں کی فورس تیار کررہے ہیں تاکہ احتجاج کو کامیاب بنایا جا سکے۔
پارٹی کے اراکین اسمبلی سے حلف لینے کا مطالبہ
رضاکاروں سے ملاقات میں وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کرے گی: فائل فوٹو اے ایف پی
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف پارٹی کے منتخب سینیٹرز، رکنِ قومی اسمبلی اور رکنِ صوبائی اسمبلی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا بلکہ ان سے احتجاج کے دوران میدان چھوڑ کر نہ جانے کا حلف لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
پارٹی کے ایک سینئر ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس سے قبل ہونے والے ہر احتجاج میں سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی غائب رہتے ہیں۔ یہ لوگ عمران خان کے نام پر عہدوں کے مزے لے رہے ہیں لیکن مشکل وقت میں بھاگ جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس بار پارٹی کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر یہ واضح کر دیا ہے کہ احتجاج میں عوامی نمائندے اور کابینہ کے ارکان سب سے آگے ہوں جس کے بعد ورکر ہوں گے۔‘
پارٹی ورکرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’احتجاج کے دوران منظر عام سے غائب رہنے والوں کے بارے میں پارٹی قیادت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔‘
حلف لینا ضروری کیوں ہے؟
سینیئر صحافی محمد فہیم کامؤقف ہے کہ ’حلف لینا ایک سیاسی سرگرمی ہے جو پارٹی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس وقت پارٹی ورکروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ان سے حلف لینا پڑ رہا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں کارکنوں کا اعتماد بحال ہونا بہت ضروری ہے۔‘
محمد فہیم کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حلف لینے کے بعد بھی احتجاج کی کال دی جائے گی یا نہیں تاہم پارٹی قیادت پر کارکنوں کا دبائو بہت زیادہ ہے۔‘