صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے منتشر ہونے کے بعد تمام بند شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔
صوابی موٹروے پر دیا جا رہا دھرنا بھی رات کے اندھیرے میں ختم کردیا گیا جبکہ جی ٹی روڈ بھی کلیئر کرکے ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کے علاج کے لیے پی ٹی آئی کے ورکرز نے خیبرپختونخوا کے 6 مختلف مقامات پر دھرنا دیا تھا مگر گزشتہ روز منگل کو جی ٹی روڈ، ڈی آئی خان بھکر روڈ، سی پیک روٹ، ہزارہ موٹروے سمیت کوہاٹ پنڈی خوشحال گڑھ روڈ اور صوابی موٹروے سے مظاہرین منتشر ہوئے اور تمام راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
پولیس کا کریک ڈاؤن
منگل کو پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے آئی جی پولیس کو بند شاہراہیں فوراً کھولنے کے احکامات جاری ہوئے تھے جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے سڑکیں کلیئر کروانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں۔
پی ٹی آئی کے ورکرز کے مطابق صوابی پولیس کی بھاری نفری کو دھرنے کے مقام پر تعینات کردیا گیا تھا جنہوں نے رات کے نصف پہر پی ٹی آئی کے کیمپ ہٹا دیے اور کرسیاں اُٹھا لیں۔
پی ٹی آئی کے ورکرز کا کہنا تھا کہ ’پولیس کے آتے ہی ورکرز کے جوش و جذبے میں اضافہ ہو گیا تھا مگر کسی ورکر نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا اور پارٹی قیادت کی ہدایت کے پیشِ نظر کوئی ہنگامہ آرائی بھی نہیں کی گئی۔‘
مردان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سینئر کارکن نجیب اللہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کے ہوتے ہوئے پولیس کا یہ اقدام ناقابلِ یقین ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لیے بغیر پولیس نے یہ جرأت کی ہو۔ حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘
دوسری جانب پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ’مظاہرین کے خلاف کسی مقام پر بھی طاقت کا استعمال نہیں ہوا۔ ورکرز کے منتشر ہونے کے بعد پولیس نے رکاوٹیں ہٹائیں تاکہ عدالت کے حکم کے مطابق ٹریفک بحال ہو سکے۔‘
پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ ’دھرنے کی وجہ سے پشاور سمیت قریبی شہروں میں ٹریفک کی سنگین صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی تاہم بدھ کی صبح سویرے تمام شاہراہیں کھول دی گئی ہیں۔‘
’پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر منظر عام سے غائب‘

پی ٹی آئی کے کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ ’صوابی موٹروے پر دھرنے کے مقام سے صوبائی قیادت ایک بار پھر غائب ہوگئی تھی۔ دھرنے میں گزشتہ تین دنوں سے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی ، ایم این اے شاہد خٹک، معاونِ خصوصی اطلاعات شفیع جان اور احمد نیازی سمیت دیگر رہنما شریک تھے تاہم گزشتہ شب دھرنے کے مقام سے تمام قیادت غائب ہو گئی۔‘
پی ٹی آئی ورکرز کے مطابق ’ رہنمائوں نے جوشیلے خطاب کیے مگر مشکل وقت میں ایک بار پھر کارکنوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا۔‘
پی ٹی آئی کے سینئر کارکن وحید سواتی کا کہنا ہےکہ ’ایم این اے اور صوبائی کابینہ کے وزرا کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کر رفو چکر ہوگئے۔ ان کو معلوم تھا کہ پولیس کریک ڈاون کرنے والی ہے چنانچہ وہ رات کے بعد کیمپ سے غائب ہوگئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’قیادت کے منظرِ عام سے غائب ہونے کے بعد پی ٹی آئی ورکروں نے شدید نعرے بازی کی۔ صوبائی قیادت عمران خان کے ساتھ مخلص نہیں ہے اس لیے ہی ایک بار پھر کارکنوں کو مایوس کیا گیا۔‘
تحریک انصاف کے کارکن محمد ہارون نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ورکرز کے ہٹ جانے کے بعد صوابی موٹروے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور اس وقت احتجاجی کیمپ صوابی قیام و طعام پر لگایا گیا ہے جہاں ورکرز اب بھی موجود ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی کے سینیئر رہنماوں نے کارکنوں کو بتائے بغیر جانے کا فیصلہ کیا جس پر کارکن برہم ہیں اور ان کا غصہ بھی جائز ہے۔ وہ گزشتہ 5 دنوں سے موٹروے پر اپنے قائد کے لیے بغیر کھائے پیے احتجاج کر رہے ہیں مگر صوبائی قیادت نے کارکنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے طور پر احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔‘












