’خاموشی اب کوئی آپشن نہیں‘ سعودی عرب کی ایران کے ’صریح‘ حملوں کی مذمت
ایرانی حملے بین الاقوامی قوانین اور چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے، عبدالمحسن بن خثیلہ نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی وعرب ممالک کے خلاف ’صریح ایرانی حملوں‘ کی شدید مذمت کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے ان حملوں کو ریاستی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
الاخباریہ اور عرب نیوز کے مطابق بدھ کو کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا’ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں’ جو کسی بھی صورت قابل جواز نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا’ ایران مسلسل خطے کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے جو ان حملوں کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا۔ اس طرزعمل کا تسلسل ایران کے لیے کسی مثبت نتیجے کا باعث نہیں بنے گا، اسے اپنے غلط اندازوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔‘
عبدا لمحسن بن خثیلہ نے ایران سے متعلق عالمی برادری کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ’ یہ نرمی، صورتحال کے بگاڑ، علاقائی و عالمی استحکام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں پر خاموشی یا نرمی، یہ غلط پیغام ہے۔‘
’غیرمتعلقہ ملکوں کو نشانہ بنانا کھلی جارحیت ہے، جس کا کوئی جواز نہیں بنتا، ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں پر حملے، امن کی کوششوں کو دانستہ نقصان پہنچانے کے مترادف اور ممکنہ پرامن حل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ’ایران، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے کیونکہ کشیدگی میں اضافہ بالاخر اس کے لیے نقصان دہ اور عالمی سطح پر تنہائی میں اضافے کا باعث ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز میں خلل اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی بھی مذمت کی اور اسے نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
سعودی عرب کے مستقل نمائندے کا کہنا تھا’ اہم تنصیبات، انفرا سٹرکچر، توانائی کے ذرائع اور غذائی تحفظ سے متعلق وسائل کو نشانہ بنانا عالمی اقتصادی چیلنجز کو مزید بڑھائے گا۔‘
انہوں نے کہا’ بین الاقوامی ادارے، خصوصا حقوق انسانی کونسل، ان خلاف ورزیوں کی نگرانی اور موثر اقدامات کی ذمہ داری پوری کرے تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ اورعالمی امن کو یقینی بنایا جاسکے۔‘
خطاب کے اختتام پر ان کا کہنا تھا ’اب خاموشی یا تردد کوئی آپشن نہیں۔ عالمی برادری کو فوری اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ان خلاف ورزیوں کو روکا اور ذمہ داران کا احتساب یقینی بنایا جاسکے۔‘
امید ہے انسانی حقوق کونسل کے رکن ممالک قرارداد کی حمایت کریں گے، ان کے مطابق سعودی عرب، کور گروپ کے تعاون سے ایک متفقہ اور مضبوط موقف پر مبنی قرارداد کی تیاری کے لیے تعمیری مذاکرات کر رہا ہے۔
خیال رہے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران کی جانب سے سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان ، قطر، امارات اور اردن کے خلاف حملوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہنگامی اجلاس منعقد کیا جو خلیجی تعاون کونسل اور اردن کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔
