Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ و ایران میں ثالثی کی پیشکش، پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟

وزیراعظم کی پیشکش کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کو مؤخر کیا (فوٹو: شٹر سٹاک)
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر پاکستان وہ ملک ہے جو صدر ٹرمپ کے ساتھ قربت رکھنے کے علاوہ ایک نسبتاً غیرجانبدار پلیئر بھی ہے جبکہ ایران کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات کا حامل ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا تھاکہ وہ خلیج میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
اس سے اگلے روز صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے کہا کہ ’وہاں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔‘
وزیراعظم  شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے۔
ان کے مطابق ’امریکہ اور ایران کی رضامندی کے بعد پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے اور میزبانی کے لیے تیار ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اگر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت کو بلندیوں پر پہنچے گی اور یہ 1972 کے بعد پہلا ہو گا جب اس کی جانب سے خفیہ سفارت کے لیے ثالثی میں مدد دی گئی تھی جس کے نتیجے میں آگے چل کر صدر رچرڈ نکسن کے چین کے دورے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔
یہ پیش رفت پاکستان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ قربت کے ایک برس کے اندر ہو گا جس کے دوران زبردست سفارت کاری دیکھنے میں آئے اور کئی معاہدے بھی ہوئے۔
پاکستان جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ ایک ایسے وقت میں براہ راست روابط رکھتا ہے جب دوسرے ممالک کے لیے ایسے چینلز بند ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر ٹرمپ کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں (فائل فوٹو: پی ایم آفس)

اگر پاکستان کوئی ٹھوس پیش رفت کرانے میں کامیاب رہتا ہے تو اس سے اس کو بہت فائدہ ملے گا۔
کوئنسی انسٹیٹیوٹ میں مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم وائنسٹائن نے روئٹرز کو بتایا کہ ’پاکستان ثالثی کے لیے غیرمعمولی ساکھ رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات بھی رکھتا ہے اور اس کو مذاکرات کے لیے قابل اعتبار مقام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘
پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور پاکستان جنوری میں ان کی صدر ٹرمپ سے ڈیووس میں ملاقات کے بعد بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔
پاکستان نے اس کے بعد امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری سے متعلق کئی معاہدے بھی کیے۔
پاکستان کے پانچ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ کے آغاز سے ہی سفارت سطح پر ہونے والی کوششوں میں شامل رہا ہے اور اس دوران کم سے کم آدھ درجن پیغامات دونوں ممالک کے درمیان پاس کیے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد ایک غیرملکی سورس کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے حکام رواں ہفتے کے اواخر میں اسلام آباد میں مذاکرات کر سکتے ہیں۔
پاکستانی سورسز کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، ویٹ کوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کی ان میں شرکت متوقع ہے۔

پاکستان پڑوسی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سرکاری پریس ریلیز کےمطابق پچھلے مہینے کے دوران شہباز شریف اور پاکستان کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے ہم منصبوں کے ساتھ 30 سے زائد بار بات کی، جن میں نصف درجن ایرانی حکام بھی شامل ہیں اور پیر کے روز بھی دو بار اس ضمن میں بات ہوئی۔
اس کے بعد امریکہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ثالثی کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیف فون پر بات بھی کی جس کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق بھیکی۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینیئر اہلکار کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران میزبانی اسلام آباد کی سٹریٹیجک سٹینڈنگ میں اپ گریڈ کو ظاہر کرتا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ کئی دہائیوں تک شورش میں رہنے کے بعد پاکستان پاکستان مغربی ایشیا میں امریکہ کے ایک بڑے اتحادی کے طور پر پھر سے کھڑا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بتایا کہ ’پاکستان ایران کا سب سے کم مخالف ہمسایہ ہے، ان کے درمیان جنوری 2024 میں ایک جھڑپ بھی ہوئی تاہم اس کے بعد تعلقات بہتر ہوئے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان دوسرے ممکنہ ثالثوں کے مقابلے میں پاکستان کو غیرجانبدار سمجھتا ہے اور وہ خلیجی ریاستوں کے برعکس امریکی اڈے بھی نہیں رکھتا اور اپنے طور پر فوجی طاقت کا حامل ہے۔
ریاض کے ساتھ اسلام آباد کا باہمی دفاعی معاہدہ جس پر ستمبر میں دستخط ہوئے تھے، بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی طرف لاتا ہے کیونکہ جیسے ہی ایران نے جنگ کے دوسرے ہفتے میں سعودی عرب پر حملہ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا انہوں نے ایران کو وہ معاہدہ یاد دلایا ہے اور ایران کے ساتھ ثالثی کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

شیئر: