Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے جنگ بندی کا امریکی منصوبہ مسترد کر دیا، قیادت پر حملوں اور ہرمز کے حوالے سے شرائط پیش کر دیں

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ’جنگ کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب ایران خود اس کا فیصلہ کرے گا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کو عارضی طور پر روکنے کے لیے پیش کیے گئے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک پر مزید حملے کیے، جن میں ایک حملے نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑکا دی۔
ایران کی  جانب سے انکار ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل نے تہران پر فضائی حملے کیے اور امریکہ نے خطے میں مزید میرینز اور چھاتہ بردار تعینات کر دیے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک نامعلوم اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پریس ٹی وی نے ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’ایران نے جاری مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا منفی جواب دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب ایران خود فیصلہ کرے گا، نہ کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ اس کے اختتام کا تصور کریں۔‘
اس مبینہ امن منصوبے کے حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی، جنہوں نے جنگ سے پہلے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی تھی، نے بھی تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم ایرانی میڈیا، جیسے مہر اور تسنیم ایجنسیز، نے پریس ٹی وی کی اس رپورٹ کو نشر کیا ہے۔
بدھ کو اس سے قبل پاکستان کے دو سینیئر حکام نے بتایا تھا کہ ثالثی کی کوششوں کے تحت اسلام آباد نے قریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر مشتمل 15 نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا دیا ہے۔

ایران نے امریکہ کا جنگ بندی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ایرانی عہدیدار کے مطابق، ’ایران تب ہی جنگ ختم کرے گا جب وہ خود فیصلہ کرے اور اپنی شرائط پوری ہوں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ تہران مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حملوں کو جاری رکھے گا۔
 پاکستان کے حکام نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کے بارے میں بتایا تھا کہ اس میں سزاؤں میں چھوٹ، ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، میزائلوں کا حد مقرر کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ایک مصری عہدیدار کے مطابق، اس منصوبے میں ایران کی مسلح گروہوں کی حمایت پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔
ان نکات میں سے بعض مذاکرات سے قبل ناقابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔  ایران نے اصرار کیا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام یا علاقائی ملیشیاؤں کی حمایت پر بات نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اسے اپنی سلامتی کے لیے اہم لگتی ہیں۔ اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا ایران کے پاس سب سے بڑا سٹریٹجک فائدہ ہے۔
ایران کے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز پر پابندیوں نے تیل کی قیمتیں آسمان تک پہنچا دی ہیں اور عالمی توانائی بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جس سے امریکہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور مارکیٹوں پر دباؤں کو کم کرنے کا راستہ تلاش کریں۔

امریکہ مزید فوجی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے

تین ذرائع کے مطابق، آنے والے دنوں میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے کم از کم 1,000 فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجے جائیں گے۔ یہ چھاتہ بردار  دشمن یا متنازع علاقوں میں جاکر اہم علاقوں اور ہوائی اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔
پینٹاگون تقریباً 5,000 مزید میرینز اور ہزاروں بحریہ کے اہلکار بھی خطے میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جو آبی اور زمینی حملوں میں ماہر ہیں۔

سفارتی کوششوں کو  بڑے چیلنجز کا سامنا

مصری اور پاکستانی حکام کے مطابق ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان جمعے کو ممکنہ طور پر اسلام آ باد مین ملاقات کے لیے زور دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام، جو ٹرمپ پر زور دے رہے تھے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے،  جنگ بندی منصوبے کی پیشکش پر حیران ہوئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اس وقت مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کاروں میں سٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی ونس شامل ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی طرف کون رابطے میں ہے، لیکن کہا کہ ’میں بتا سکتا ہوں، وہ بھی معاہدہ چاہتے ہیں۔‘
پریس ٹی وی، جو ایران کی سخت گیر حکومت کے زیر کنٹرول ہے، نے اس عہدیدار کے حوالے سے ایران کا پانچ نکاتی منصوبہ بھی نقل کیا جو امریکی منصوبے کو مسترد کرتا ہے۔ اس منصوبے میں یہ نکات شامل ہیں:
ایرانی لیڈرشپ کے قتل کو روکنا، یقینی بنانا کہ ایران کے خلاف کوئی اور جنگ نہ کی جائے، جنگ کا معاوضہ، دشمنیوں کا خاتمہ اور ایران کی آبنائے ہرمز پر خود مختاری۔
یہ اقدامات خصوصاً نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا حق ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس کے لیے ناقابل قبول ہوں گے، کیونکہ جنگ سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہے۔
اگرچہ ایران اور عمان دونوں کے پاس آبنائے ہرمز میں زمین ہے، اس کی تنگ آبی گزرگاہ کو بین الاقوامی پانی سمجھا جاتا ہے جہاں تمام جہاز سفر کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی حکام، جو ٹرمپ پر زور دے رہے تھے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے، اس جنگ بندی منصوبے کی پیشکش پر حیران ہوئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی بات چیت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہ واضح نہیں کہ ایران کی حکومت میں کس کے پاس مذاکرات کا اختیار ہے یا کون مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوگا، کیونکہ اسرائیل نے ایرانی لیڈرشپ کو قتل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

شیئر: