ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کے باوجود ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے جاری
ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کے باوجود ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے جاری
منگل 24 مارچ 2026 12:55
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے کے باوجود ایران نے منگل کو اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملے جاری رکھے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اسی دوران ایک میزائل وسطی تل ابیب کی ایک سڑک پر آ گرا۔
منگل کی صبح ایران نے اسرائیل پر متعدد مرحلوں میں میزائل حملے کیے، اور ملک کے شمالی حصے میں ایک میزائل کے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
تل ابیب میں 100 کلوگرام وارہیڈ والا ایک میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دیتے ہوئے شہر کے مرکز کی ایک سڑک پر آ گرا، جس سے قریبی اپارٹمنٹ کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور دھواں پھیل گیا۔
ریسکیو سروس کے کارکن یوئیل موشے نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے تباہی، دھواں اور افراتفری دیکھی۔‘
انہوں نے کہا کہ چار افراد معمولی زخمی ہوئے۔
پناہ گاہ سے باہر آتے ہوئے عامر حسید نے کہا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ تباہی کی توقع کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے آپ ایک آسان ہدف ہیں، بس میزائل کے گرنے کا انتظار کر رہے ہیں، یا آپ کے قریب کسی پر۔‘
اس سے قبل دن میں، اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر شدید بمباری کی، اور کہا کہ وہ ایران سے منسلک حزب اللہ کے زیرِ استعمال تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق لبنان کے دارالحکومت کے جنوب مشرق میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔
منگل کی صبح ایران نے اسرائیل پر متعدد مرحلوں میں میزائل حملے کیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کویت میں فضائی دفاع کے ٹکڑوں سے بجلی کی لائنیں متاثر ہوئیں، جس کے باعث کئی گھنٹوں تک جزوی بجلی بند رہی۔ بحرین میں میزائل الرٹ سائرن بجائے گئے، جبکہ سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے اپنے تیل سے مالا مال مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے 19 ایرانی ڈرونز تباہ کر دیے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو آبنائے ہرمز 48 گھنٹوں کے اندر نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے پاور سٹیشنز کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی موخر کر دی تھی۔
تاہم، ٹرمپ کا دعویٰ کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے متنازع ہے، کیونکہ ایران نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’فیک نیوز کے ذریعے مالی اور تیل کی مارکیٹوں کو متاثر کیا جا رہا ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی پر غور کے باوجود اسرائیل ایران اور لبنان پر حملے جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ابھی اور بھی کچھ باقی ہے۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دفتر کے مطابق انہوں نے اس ہفتے آذربائیجان، مصر، عمان، پاکستان، روس، جنوبی کوریا، ترکی اور ترکمانستان کے ہم منصبوں سے جنگ کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔