Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لون ایپس کے ڈیفالٹر صارفین، کیا دیگر بینکنگ خدمات بھی حاصل نہیں کر سکتے؟

لون ایپس میں ڈیفالٹر کئی شہری اپنی بینکنگ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پا رہے۔ (فائل فوٹو: فری پک)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے شہری اسجد علی (فرضی نام) نے ایک رجسٹرڈ لون ایپ سے کچھ عرصہ قبل قرض لیا۔ تاہم جب قرض کی واپسی کی تاریخ قریب آئی تو ایک حادثے میں ان کا موبائل فون ٹوٹ گیا، اور نیا فون حاصل کرنے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا۔
وہ اس دوران ایپ کے ذریعے قرض واپس نہ کر سکے اور نادانستہ طور پر ڈیفالٹر ہو گئے، جس کا انہیں بروقت علم بھی نہ ہو سکا۔
بعدازاں بینک سے متعلق ایک کام کے سلسلے میں وہ بینک پہنچے، مگر جب بینک حکام نے ان کا شناختی کارڈ چیک کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام ای سی آئی بی ریکارڈ میں منفی طور پر شامل ہو چکا ہے اور وہ اب اپنی بینکنگ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے۔
صرف اسجد علی ہی نہیں بلکہ اس وقت ایسے کئی اور شہری بھی اس وقت لون ایپس میں ڈیفالٹر ہیں اور ان کا نام ای سی آئی بی ریکارڈ میں درج ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی بینکنگ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پا رہے۔ وہ اب قرض واپس کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
زیرِنظر رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کوئی صارف اگر لون ایپ سے لیا گیا قرض واپس نہ کر پائے اور ڈیفالٹر ہو جائے، تو کیا اس کا ریکارڈ صرف لون ایپ تک محدود رہے گا یا اس کی دیگر بینکنگ خدمات تک رسائی بھی متاثر ہو جائے گی، اور ایسے صارفین کے لیے قرض کی واپسی کا عمل کس طرح ممکن ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف لون ایپس کے ذریعے شہریوں کی جانب سے چھوٹے قرض لینے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت نے اب لون ایپس کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنا شروع کر دیا ہے، اور اس وقت ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر تقریباً 25 رجسٹرڈ ایپس کی فہرست موجود ہے، جنہیں قانونی طور پر لون ایپس یا نان بینکنگ فنانس کمپنیز کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ای سی آئی بی نظام کیا ہے؟

اگر کوئی صارف کسی لون ایپ یا بینک سے قرض لے اور اسے بروقت واپس نہ کرے تو سب سے پہلا اقدام یہ ہوتا ہے کہ اس کا نام الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (ای سی آئی بی) ریکارڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ای سی آئی بی ایک مربوط ڈیجیٹل نظام ہے، جہاں تمام بینک اور این بی ایف سیز اپنے صارفین کے قرضوں کا ریکارڈ جمع کرواتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں، صارف جہاں سے بھی قرض لیتا ہے، اس کی تمام تفصیلات ای سی آئی بی کے ریکارڈ میں شامل ہو جاتی ہیں۔
سٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق کوئی صارف اگر قرض بروقت ادا کرتا ہے تو اس کی مثبت معلومات بھی اس نظام میں شامل ہو جاتی ہیں، جو آئندہ قرض لینے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی صارف قرض واپس نہیں کر پاتا تو یہ منفی ریکارڈ بھی محفوظ رہتا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف لون ایپس کے ذریعے شہریوں کی جانب سے چھوٹے قرض لینے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ (فائل فوٹو: ایکس)

عام طور پر اسے عوامی زبان میں ’بلیک لسٹ‘ کہا جاتا ہے، تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں صرف اس کا نام ای سی آئی بی ریکارڈ میں شامل ہوتا ہے، اور بینک اس کریڈٹ ہسٹری کو دیکھتے ہوئے اسے نئی بینکنگ سہولیات دینے سے گریز کرتے ہیں۔
تاہم سٹیٹ بینک واضح کرتا ہے کہ یہ کوئی مستقل بلیک لسٹ نہیں ہے۔ صارف بعد میں جب قرض ادا کر دیتا ہے تو اس کا ریکارڈ اپڈیٹ ہو جاتا ہے لیکن سابقہ ہسٹری کچھ عرصہ تک باقی رہتی ہے۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے جب ایس ای سی پی کے ترجمان ساجد گوندل سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’بعض لون ایپس سے منسلک متعدد صارفین ڈیفالٹر ہیں اور کچھ معاملات عدالتوں میں بھی زیرِسماعت ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس مسئلے کے حل کے لیے ایک ایسا میکنزم زیرغور ہے جس کے تحت صارفین ایک مخصوص اکاؤنٹ میں اپنی واجب الادا رقم جمع کروا کر اپنی حیثیت کلیئر کروا سکیں۔‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’کسی بھی رجسٹرڈ لون ایپ کو بروقت قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں سٹیٹ بینک کا وہی میکنزم لاگو ہوتا ہے جو بینکنگ سیکٹر میں بھی ہوتا ہے، یعنی ڈیفالٹر صارفین کا ڈیٹا ای سی آئی بی میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں بینکنگ معاملات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔‘

’صارفین کو اضافی مہلت ملنی چاہیے‘

اس مسئلے کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے اسلام آباد میں مقیم نان بینکنگ فنانس کمپنیز اور مائیکرو فنانس بینکنگ کے ماہر عمر حیدر سے بھی بات کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں بعض لون ایپس صارفین سے قرض وصول کرنے کے لیے انہیں دھمکیاں دے کر یا دباؤ میں لا کر غیرمناسب طریقے اختیار کرتی تھیں، تاہم اب رجسٹرڈ ایپس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد انہیں لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ای سی آئی بی ایک مربوط ڈیجیٹل نظام ہے۔ (فوٹو: سٹیٹ بینک آف پاکستان)

عمر حیدر کے مطابق اگر کوئی صارف قرض واپس نہیں کرتا تو اس کا ریکارڈ ایک سسٹم کے ذریعے تمام بینکنگ اداروں اور متعلقہ پلیٹ فارمز تک پہنچ جاتا ہے، جس کے بعد اسے مزید قرض یا بینکنگ سہولیات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’صارفین کے لیے یہ سہولت موجود ہونی چاہیے کہ اگر وہ مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کر سکیں تو انہیں اضافی مہلت دی جائے۔‘
’بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لون ایپس قرض دینے کے بعد بند ہو جاتی ہیں، جس کے باعث صارفین کے پاس رقم واپس کرنے کا کوئی واضح طریقہ نہیں رہتا اور وہ بعد میں بینکنگ سہولیات سے بھی محروم ہو جاتے ہیں، جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

 

شیئر: