Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے مزید 15 پروازیں منسوخ تاہم کینیڈا کے لیے فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری

اب لاہور اور اسلام آباد سے ٹورنٹو کے لیے پروازیں باقاعدگی سے آپریٹ ہو رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں 26 مارچ کو بھی 15 سے زائد پروازیں منسوخ یا معطل کی گئی ہیں، رواں ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 100 سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
 خلیجی ممالک، امریکہ، یورپ، کنیڈا اور افریقہ سمیت دیگر ممالک کے لیے سفر کرنے والے مسافر ان پروازوں کی منسوخ یا معطل ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ 
حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس نے نہ صرف فضائی راستوں کو متاثر کیا بلکہ ایئرلائنز کے آپریشنل نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ملک کی فضائی حدود بدستور کھلی ہیں اور اندرون ملک یا بین الاقوامی پروازوں کے لیے کسی قسم کی باضابطہ پابندی عائد نہیں کی گئی۔ تاہم اصل مسئلہ ان ممالک کی فضائی حدود میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جہاں سے ہو کر زیادہ تر بین الاقوامی پروازیں گزرتی ہیں۔ 
مشرق وسطیٰ، خاص طور پر خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات اور جزوی فضائی بندش کے باعث ایئرلائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور شیڈول متاثر ہو رہے ہیں۔
ایئر پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ کے لیے صورتحال قدرے مستحکم دکھائی دیتی ہے، کینیڈا کے لیے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل طیاروں مرمت کے باعث ان میں تعطل آیا تھا۔ اب لاہور اور اسلام آباد سے ٹورنٹو کے لیے پروازیں باقاعدگی سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ساتھ حکام رابطہ میں ہیں۔ تاہم فی الحال مسافروں کو ترکی، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک سے ٹرانزیٹ لیتے ہوئے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جو مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ 

حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے خاص طور پر ان مسافروں کو متاثر کیا ہے جو ٹرانزٹ کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ کئی ایئرلائنز نے دبئی اور دوحہ کے راستوں پر اپنی پروازوں میں تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ کچھ کیسز میں ٹرانزٹ پروازیں منسوخ بھی کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسافروں کو طویل انتظار، اضافی اخراجات اور سفری منصوبوں میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پروازوں کے روٹس میں تبدیلی کا ایک بڑا اثر ایندھن کے اخراجات پر پڑتا ہے۔ جب طیارے طویل راستے اختیار کرتے ہیں تو انہیں زیادہ ایندھن درکار ہوتا ہے، جس سے ایئرلائنز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ملکی اور غیر ملکی سفر کے کرایوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو یہ اضافہ مزید بھی ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں مسافروں کے لیے سب سے اہم مسئلہ غیر یقینی ہے۔ کئی افراد جو بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں بار بار اپنی پروازوں کا اسٹیٹس چیک کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی ایئرلائن سے رابطہ ضرور کریں تاکہ کسی بھی اچانک تبدیلی سے بچا جا سکے۔

حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی ایئرلائن سے رابطہ ضرور کریں (فوٹو: اے ایف پی)

سینئر صحافی طارق ابوالحسن کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال پاکستان کے فضائی شعبے کے لیے ایک پیچیدہ مرحلہ ظاہر کرتی ہے۔ ایک جانب بین الاقوامی پروازوں کی بحالی جیسے مثبت اشارے موجود ہیں، تو دوسری جانب علاقائی کشیدگی اس نظام متاثر کررہی ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود کھلی ہونے کے باوجود بیرونی عوامل اس کے فضائی نظام پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی ایوی ایشن کس قدر باہم جڑی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں صورتحال کا انحصار بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کے حالات پر ہوگا۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو پروازوں کا نظام دوبارہ معمول پر آ سکتا ہے، تاہم اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو نہ صرف پروازوں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے بلکہ سفری اخراجات اور مشکلات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

شیئر: