Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کارگو ٹرینوں کے ذریعے بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز

اردن اور شمال میں واقع ممالک تک براہ راست راستے کھلیں گے۔ (فوٹو: الشرق)
سعودی ریلوے ’سار‘ نے کارگو ٹرینوں کے ذریعے ایک بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز کیا ہے، جو دمام میں کنگ عبدالعزیز پورٹ، جبیل میں کنگ فہد انڈسٹریل پورٹ اور الحدیثہ بارڈر پر جبیل کمرشل پورٹ سے جوڑتا ہے۔
ایس پی  اے کے مطابق یہ اقدام اردن اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ملکوں کے ساتھ براہ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ، ایک موثر زمینی راستے کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ دیتا ہے۔
’سار‘ کے مشرقی علاقے کی بندرگاہوں سے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹینرز کو الحدیثہ بارڈر تک پہچانے کی اس نئی سروس سے اردن اور مملکت کے شمال میں واقع ممالک تک براہ راست راستے کھلیں گے۔
اس سے برآمدات اور ری ایکسپورٹ کے عمل کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ ٹرانسپورٹیشن کا نظام  پہلے سے زیادہ موثر اور قابل اعتماد ہو جائے گا۔
سعودی ریلوے کا کہنا تھا’ اس لاجسٹک کوریڈور سے صنعتکاروں کو اپنی مصنوعات مشرقی ریجن کی بندرگاہ سے الحدیثہ بارڈر تک منتقل کرنے کی سہولت ہو گی، جہاں سے اردن اور مملکت کے شمالی حصے تک پہنچائی جا سکیں گی۔‘
’اسی ٹریک کے ذریعے اردن و دیگر ملکوں سے سامان، مملکت کی مشرقی بندرگاہ تک پہنچ سکے گا، جس سے مال برداری اور سپلائی چین کی صورتحال بہتر ہو گی۔‘
ریلوے کوریڈور کے ذریعے روایتی روڈ ٹرانسپورٹیشن کے مقابلے میں 1700 کلو میٹر کی مسافت نصف وقت میں طے کی جا سکے گی، جبکہ سامان کی گنجائش بھی ایک ٹرین میں 400 کنٹینر سے تجاوز کرجائے گی۔

 ریلوے کوریڈور سے لاجسٹک سروسز پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوں  گے، شاہراہوں پر موجود ہزاروں ٹرکس کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، جبکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
یہ اقدامات ’سار‘ کی جانب سے سعودی وژن 2030 اورقومی ٹرانسپورٹ و لاجسٹک حکمت عملی کے اہداف کے حصول کو آسان بنانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
خیال رہے سعودی ریلوے ’سار‘ کا ریلوے ٹریک 5500 کلومیٹر طویل ہے، جس کے ذریعے مسافروں، کارگو اور معدنیات کی ٹرانسپوٹیشن کی جاتی ہے۔
گزشتہ برس 2025 میں ’سار‘ نے 14 ملین سے زائد مسافروں اور 30 ملین ٹن سے زیادہ سامان اور معدنیات کی منتقلی کی ہے۔

 

شیئر: