ایران امریکہ تنازع کے حل کے لیے اصولی کردار ادا کر رہے ہیں: پاکستان
جمعرات 26 مارچ 2026 13:27
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے پر خاموش نہیں ہے (سکرین گریب)
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کر رہے ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو کی جبکہ ایران کے صدر، اردن کے بادشاہ عبد اللہ دوم، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، ملائشیا، لبنان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم سے بھی کشیدگی کی صورتحال پر رابطہ کیا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس دوران ترکیہ، عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے میں رہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے پر خاموش نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے متعدد ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے کیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی مذاکرات کی حمایت کا بیان دے چکے ہیں اور خطے میں امن کے لیے ان کا مؤقف ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی میزبانی کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں اصولی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا بھی گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران-امریکہ تنازع کے حوالے سے مختلف افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں تاہم سفارت کاری میں بعض تقاضے ہوتے ہیں جن کے تحت تحمل، خاموشی اور رازداری ضروری ہوتی ہے۔
’انڈین وزیر خارجہ کا بیان غیرسفارتی ہے‘
ترجمان دفتر خارجہ نے انڈیا کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کو دی گئی سزاؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزا ’انصاف کا سنگین قتل‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سزائیں انڈین قانون کے تحت بنیادی حقوق کو دبانے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کو بھی بھارتی عدلیہ پر سوالیہ نشان قرار دیا۔
پاکستان نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور انڈیا کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کے حق کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کے حوالے سے انڈین وزیر خارجہ کے بیان کو بھی غیر سفارتی قرار دیا۔
’آپریشن غضب للحق جاری ہے‘
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے خلاف جاری ’آپریشن غضب للحق‘ میں عارضی وقفہ ختم ہو چکا ہے اور کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
طاہر حسین اندرابی کے مطابق یہ ایک ٹارگٹڈ آپریشن ہے جو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں عید کے موقع پر برادر ممالک کی درخواست پر عارضی وقفہ کیا گیا تھا، تاہم اب کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔