Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قاسم خان کے بیان سے کیا پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس خطرے میں پڑ جائے گا؟

قاسم خان نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کی معطلی یا خاتمے سے متعلق براہِ راست کوئی بات نہیں کی (فائل فوٹو: سکرین گریب)
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان کے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اظہارِ خیال کے بعد پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نئی بحث چِھڑ گئی ہے اور یہ معاملہ ایک بار پھر سُرخیوں میں آگیا ہے۔
اگرچہ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس تقریر کے بعد پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، تاہم قاسم خان نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے اس سٹیٹس کی معطلی یا خاتمے سے متعلق براہِ راست کوئی بات نہیں کی۔
تاہم انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ کہا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے، لیکن میرے والد کی نظربندی، قید تنہائی، طبی سہولیات کی کمی اور رشتہ داروں سے ملاقات نہ کرانا اس وعدے کی خلاف ورزی ہے۔
اس پس منظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے اور اس کے لیے کن نکات پر عمل درکار ہے؟
قاسم خان نے اپنی تقریر میں مزید کیا کہا؟
قاسم خان نے یورپی یونین کے کسی پلیٹ فارم پر تقریر نہیں کی بلکہ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں گفتگو کی، جو ایک عالمی فورم ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ آزادیٔ اظہارِ رائے کے حوالے سے گفتگو کی۔
قاسم خان نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے خاتمے سے متعلق کوئی بات نہیں کی، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ملک میں انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور اس نوعیت کے دیگر عوامل کا بہتر ہونا بھی اہم شرائط میں شامل ہوتا ہے۔
اب ذرا پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظر ڈالتے ہیں۔ جی ایس پی پلس دراصل یورپی یونین کا ایک خصوصی تجارتی پروگرام ہے، جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی یونین کی منڈی میں بہت سی مصنوعات پر ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی رسائی حاصل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں وہ ممالک 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں، جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور بہتر حکمرانی جیسے شعبے شامل ہیں۔

قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کی نظربندی اور قید تنہائی انسانی حقوق کے وعدے کی خلاف ورزی ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کو یہ سٹیٹس 2014 میں دیا گیا تھا، اور یورپی پارلیمنٹ نے 2023 میں اسے مزید چار سال کے لیے یعنی 2027 تک بڑھا دیا۔ 
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ابھی بھی ان اہم تجارتی مُراعات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے وعدوں اور بین الاقوامی شرائط پر عمل کرتا رہے۔
ہم نے اس معاملے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ماہرِ معیشت اور عالمی اداروں کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے سابق وزیرِ مملکت ہارون شریف سے بھی بات کی۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’قاسم خان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے خطاب کیا، نہ کہ برطانوی یا یورپی پارلیمنٹ سے، اور اس گفتگو میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کا کوئی ذکر بھی نہیں ہوا۔‘
ہارون شریف نے واضح کیا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے لیے یورپی یونین ہر تین سال بعد متعلقہ ملک کا جائزہ لیتی ہے، جہاں وہ شرائط و ضوابط کی جانچ کرتی ہے اور انسانی حقوق کو بھی اس میں اہم عنصر کے طور پر دیکھتی ہے، اور اسی کے بعد رپورٹ جاری کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے تاکہ ملک کا معیار برقرار رہے اور جی ایس پی پلس سٹیٹس متاثر نہ ہو۔

ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو فی الحال کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک اور اہم نکتے پر بات کرتے ہوئے ہارون شریف نے کہا کہ اگر موجودہ جنگی صورت حال مزید خراب ہوتی ہے اور یورپی معیشت کساد بازاری کی زد میں آجاتی ہے، تو ایسے میں یورپی ممالک غور کر سکتے ہیں کہ کسی ملک کو مزید مُراعات دی جائیں یا نہیں۔
اسی طرح پاکستان کے ایک اور ماہر معیشت ڈاکٹر اکرام الحق بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ قاسم خان کی تقریر کا یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سٹیٹس سے براہِ راست تعلق نہیں ہے، کیونکہ یورپی یونین اس حوالے سے اپنے تجزیے اور رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق اور آزادی کے اداروں کی صورت حال ابھی تسلی بخش نہیں، لیکن موجودہ عالمی منظرنامے اور امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے پیش نظر، پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو فی الحال کوئی فوری نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے۔

شیئر: