ایران سے منسلک ہیکرز نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کے ذاتی ای میل ہیک کر کے تصاویر اور دستاویزات شائع کر دیں
ایران سے منسلک ہیکرز نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کے ذاتی ای میل ہیک کر کے تصاویر اور دستاویزات شائع کر دیں
ہفتہ 28 مارچ 2026 16:39
ہندلہ نے پٹیل کی تصاویر کے ساتھ 300 سے زائد ای میلز کا نمونہ بھی شائع کیا۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران سے منسلک ہیکرز نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل کے ذاتی ای میل ہیک کرکے ان باکس میں ان کی تصاویر اور دیگر دستاویزات انٹرنیٹ پر شائع کر دیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہیکرز کے گروپ ہندلہ ہیک ٹیم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’پٹیل اب کامیابی سے ہیک کیے گئے متاثرین کی فہرست میں اپنا نام دیکھیں گے۔‘
ہیکرز نے پٹیل کی ذاتی تصاویر شائع کیں، جن میں وہ سگار پیتے اور سونگھتے، ایک قدیم کنورٹیبل کار میں سوار، اور آئینے میں خود کی تصویر لیتے ہوئے بڑی بوتل روم کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔
ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ پٹیل کے ای میلز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیورو کے ترجمان بین ولیمسن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے اس سرگرمی سے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ اس ڈیٹا کی نوعیت تاریخی ہے اور اس میں کوئی سرکاری معلومات شامل نہیں ہیں۔‘
ہندلہ، جو خود کو فلسطین کے حق میں سرگرم ہیکرز کا گروپ ظاہر کرتا ہے، کو مغربی محققین ایران کی حکومت کے سائبر انٹیلی جنس یونٹس کی طرف سے استعمال ہونے والے کئی کرداروں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔
ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ پٹیل کے ای میلز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ (فوٹو: اے پی)
ہندلہ نے پٹیل کی تصاویر کے ساتھ 300 سے زائد ای میلز کا نمونہ بھی شائع کیا، جو 2010 سے 2019 کے درمیان ذاتی اور کام کی خطوط پر مشتمل لگتی ہیں۔
روئٹرز ان ای میلز کی تصدیق نہیں کر سکا، لیکن ہندلہ کے دعوے کے مطابق جو جی میل ایڈریس ہیک ہوا وہ وہی ایڈریس ہے جو پٹیل کے سابقہ ڈیٹا لیک میں بھی سامنے آیا تھا۔ گوگل، جو جی میل چلاتا ہے، نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ایران سے منسلک ہیکرز نے اب اس جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ یہ دکھایا کہ وہ امریکی اہلکاروں کو شرمندہ اور غیر محفوظ محسوس کروانا چاہتے ہیں۔
ہندلہ نے سٹرائیکر کے بعد جمعرات کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ملازمین کے ذاتی ڈیٹا کو بھی شائع کیا۔ لاک ہیڈ مارٹن نے کہا کہ وہ ان رپورٹس سے آگاہ ہیں اور اپنے کاروبار کو سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پالیسی اور طریقہ کار رکھتے ہیں۔
اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ کے چیف آف اسٹاف گل میسنگ کے مطابق، پٹیل کے خلاف ہیک اور لیک آپریشن ایران کی امریکی اہلکاروں کو شرمندہ کرنے اور انہیں غیر محفوظ محسوس کروانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
غیر ملکی ہیکرز کا سینئر اہلکاروں کے ذاتی ای میلز کو نشانہ بنانا کوئی نیا واقعہ نہیں، اور ایسی خلاف ورزیاں وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر، 2016 کے امریکی انتخابات سے قبل ہیلری کلنٹن کے انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈیسٹا کا جی میل ہیک ہوا تھا۔ 2015 میں نوجوان ہیکرز نے تب کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن کے ذاتی اکاؤنٹ میں داخل ہو کر امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کے بارے میں ڈیٹا لیک کیا تھا۔