Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

متاثر کن نوجوان رہنما: 15 برس کی سعودی لڑکی کی سائنسی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف

الجھنی ورلڈ یوتھ پارلیمنٹ فار واٹر اور کفیلہ فاؤنڈیشن کی سفیر رہ چکی ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
15 سال کی عمر میں سلاف الجھنی متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں منعقد ہونے والے امپیکٹ سی ای او ایوارڈز میں’سب سے زیادہ متاثر کن نوجوان رہنما‘ کا ایوارڈ جیتنے والی پہلی سعودی لڑکی بن گئی ہیں۔ انہیں یہ اعزاز ان کی لیڈر شپ اور بین الاقوامی سطح پر سائنسی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
وہ توانائی اور بایومیڈیکل سائنس کے شعبوں میں اپنی متعدد منصوبہ بندیوں اور انوویشن پر ’فخر‘ کرتی ہیں جن میں خاص طور پر ان کی تحقیق کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان کا ایک بایومیڈیکل ریسرچ پروجیکٹ ایسا علاج ہے جو اعصابی امراض کے باعث ہونے والی دماغی موت کے مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دیتا ہے جن میں پارکنسنز بیماری، تکلیف دہ چوٹیں، اندرونی خون بہنا اور الزائمر شامل ہیں۔
’میں نے یہ علاج چار قدرتی دواؤں کے پودوں سے تیار کیا، جنہیں ایک کیٹالسٹ اور نینو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملایا گیا اور اس میں مصنوعی ذہانت شامل کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا علاج سامنے آیا جسے میں اے آئی ڈائریکٹڈ نینو تھیراپیوٹک ٹریٹمنٹ کہتی ہوں۔‘
سلاف الجھنی نے یہ تحقیق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں کی۔
سلاف الجھنی کی اس تحقیق کے پیچھے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال کی کہانی تھی جو ’سلیپنگ پرنس‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’12 سال کی عمر میں میں نے ان کی حالت کے لیے علاج تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اس علاج پر کام شروع کیا اور اس بات پر غور کیا کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔ میں نے ایک ایسی چیز تیار کرنے کا فیصلہ کیا جو دماغی طور پر مردہ مریضوں کے خیالات اور ان کے دماغی سگنلز کو پڑھ سکے جنہیں ہم محسوس نہیں کر سکتے۔‘

سلاف الجھنی نے یہ تحقیق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں کی (فوٹو: لنکڈاِن)

توانائی کے شعبے میں الجھنی ایک ایسے منصوبے کا حصہ تھیں جس میں درختوں کے پتوں سے منتخب انداز میں ہائیڈروجن تیار کی جاتی ہے۔
اس منصوبے میں انہوں نے ایسے ہائیڈروجن فیول سیلز تیار کرنے میں مدد کی جو پتوں سے حاصل شدہ ہائیڈروجن پر مبنی تھے اور جو روایتی ایندھن کا ایک قابلِ تجدید متبادل فراہم کرتے ہیں۔
الجھنی ورلڈ یوتھ پارلیمنٹ فار واٹر اور کفیلہ فاؤنڈیشن کی سفیر رہ چکی ہیں جبکہ وہ پرسیپشن فاؤنڈیشن کے سعودی چیپٹر کی صدر بھی رہی ہیں۔
ہائی سکول کی طالبہ ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ میں قائم تعلیمی پروگراموں کے ذریعے متعدد کورسز مکمل کیے ہیں اور اپنی باقاعدہ تعلیم کے ساتھ اعلیٰ  تعلیم کو بھی کامیابی سے متوازن رکھا ہے۔
ان کی سائنس اور تحقیق کے لیے دلچسپی صرف آٹھ سال کی عمر میں شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں مسلسل سوالات پوچھتی تھی اور اپنے اردگرد کی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی تھی۔ میرے اندر ایک زبردست سائنسی تجسس تھا جو وقت کے ساتھ بڑھ کر سائنسی تحقیق میں تبدیل ہو گیا۔‘

سلاف الجھنی کی اس تحقیق کے پیچھے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال کی کہانی تھی (فوٹو: عرب نیوز)

یہ باصلاحیت نوجوان 9 زبانیں بول سکتی ہیں جن میں عربی، انگریزی، فرانسیسی، پرتگالی، جاپانی، چینی، جرمن، سپینش اور اٹالین شامل ہیں اور وہ یہ زبانیں مختلف درجوں کی مہارت کے ساتھ استعمال کرتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں مصروف نہ ہونے کے دوران الجھنی عربی خطاطی کے مختلف انداز میں مشق کرنے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
انہوں نے سعودی لڑکیوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’کامیابی کے لیے کوئی کم عمر نہیں ہوتی، اور عزم اور علم کے ساتھ کوئی خواب ناممکن نہیں ہوتا۔ آج کی سعودی لڑکیاں قیادت، جدت اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں
مواقع کا انتظار نہ کریں، خود موقع پیدا کریں اور تبدیلی کو ممکن بنائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دنیا کو یہ کہنے دو کہ سعودی تبدیلی کی بنیاد ہیں اور دنیا کی بنیاد ہیں، وہ لوگ جو دنیا کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ دنیا کو یہ جان لینے دو کہ سعودیوں کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔‘

 

شیئر: