Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں 70 افراد کا قاتل ’شنکریا کنپٹی مار‘، جس کی دہشت سے لوگ رات کو سونے سے ڈرتے تھے

اس شخص نے محض 18 مہینوں کے اندر تقریباً 70 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا (فوٹو: اے آئی)
سنہ 1970 کی دہائی میں انڈین ریاست راجستھان خوف کی ایسی فضا میں لپٹا ہوا تھا جہاں لوگ رات کے وقت سونے سے بھی ڈرنے لگے تھے۔ گاؤں، قصبے اور سڑک کنارے بسی چھوٹی آبادیوں میں ایک نام دہشت کی علامت بن چکا تھا اور یہ نام تھا شنکریا کنپٹی مار۔
’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق اس شخص نے محض 18 ماہ کے دوران قریباً 70 افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بچوں، خواتین اور سادھوؤں تک کو اس کی درندگی سے امان نہ ملی۔
امریکی سیریل کلر ٹیڈ بنڈی کا ایک مشہور قول ہے کہ ’دنیا کا سب سے خطرناک انسان وہ ہوتا ہے جو بظاہر خطرناک دکھائی نہ دے۔‘ یہی بات شنکریا کنپٹی مار پر بھی صادق آتی تھی۔ وہ عام لوگوں میں گھل مل جاتا، کسی کو شک نہ ہوتا اور پھر رات کی تاریکی میں اپنے شکار پر حملہ کر دیتا۔
صحافی اور محقق راکیش گوسوامی نے اپنی کتاب ’انڈیاز موسٹ ڈینجرس سیریل کلر: شنکریا کنپٹی مار‘ میں اس خوفناک داستان کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ یہ کتاب صرف ایک قاتل کی کہانی نہیں بلکہ اس دور کے سماجی خوف، پولیس نظام اور مجرمانہ تفتیش کی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔
شنکریا کا تعلق سری گنگا نگر سے تھا۔ ’کنپٹی مار‘ نام دراصل اس کے قتل کے طریقے سے جُڑا ہوا تھا۔ وہ اپنے شکار کی کنپٹی یعنی کان کے پیچھے والے حصے پر وار کرتا تھا۔ اکثر لوگ سو رہے ہوتے اور وہ خاموشی سے ان کی جان لے لیتا۔ ایک پولیس افسر نے کتاب میں اسے ’خاموش قاتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اپنے شکار کا سامنا نہیں کر سکتا تھا، اسی لیے انہیں نیند میں قتل کرتا تھا۔‘
مصنف کے مطابق اس کتاب کی تحقیق میں چار سال لگے۔ اس دوران پولیس ریکارڈ، اخباری تراشے، ایف آئی آرز، پنچ نامے اور ریٹائرڈ پولیس و جیل حکام کے انٹرویوز کا سہارا لیا گیا۔ اس وقت جدید فرانزک سہولیات اور ڈیجیٹل نگرانی موجود نہیں تھی، اس لیے تفتیش کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی متاثرین مر چکے تھے جبکہ کچھ اتنے خوفزدہ تھے کہ بیان دینے کے قابل نہیں رہے تھے۔
راجستھان بھر میں قتل کی ان وارداتوں نے عوام میں شدید خوف پھیلا دیا۔ اُس وقت کے وزیراعلیٰ برکت اللہ خان کی حکومت پر بھی دباؤ بڑھنے لگا۔ اسمبلی میں حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تھے۔

پھانسی سے پہلے شنکریا نے اعتراف کیا کہ ’میں نے بے وجہ قتل کیے، کسی کو میرے جیسا نہیں بننا چاہیے‘ (فائل فوٹو: پکسابے)

کتاب میں پولیس کے اندرونی نظام، افسران کے درمیان دباؤ، بیوروکریسی اور وسائل کی کمی کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے دکھایا کہ اُس دور میں ایک بڑے مجرم کو پکڑنا کس قدر مشکل تھا۔ ہر نئی لاش کے ساتھ عوامی خوف بڑھتا جا رہا تھا جبکہ پولیس پر دباؤ بھی شدت اختیار کر رہا تھا۔
آخرکار شنکریا گرفتار ہوا۔ اس کے خلاف چارج شیٹ تیار کی گئی، مقدمہ چلا، اپیلیں ہوئیں اور بالآخر اسے سزاۓ موت سنائی گئی۔ 15 مئی 1979 کو جے پور سینٹرل جیل میں اسے پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی شہ سرخی کچھ یوں تھی ’ستر افراد کا قاتل پھانسی چڑھ گیا۔‘
کہا جاتا ہے کہ پھانسی سے پہلے شنکریا کے آخری الفاظ تھے کہ ’میں نے بے وجہ قتل کیے۔ کسی کو میرے جیسا نہیں بننا چاہیے۔‘
سیریل کلرز کی کہانیاں اکثر مجرموں کو ایک پُراسرار ہیرو کے طور پر پیش کر دیتی ہیں، مگر راکیش گوسوامی کی یہ کتاب اس جال سے بچ نکلتی ہے۔ وہ سنسنی پیدا کرنے کے بجائے حقائق، سرکاری ریکارڈ اور تاریخی تناظر پر توجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شنکریا کنپٹی مار کی یہ داستان صرف جرائم کی کہانی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے انڈیا، اس کے پولیس نظام اور معاشرتی خوف کی ایک اہم تاریخی دستاویز بن جاتی ہے۔

شیئر: