Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایران جنگ ختم کرنے کے لیے چین کی مدد کی ضرورت نہیں‘، تہران کی آبنائے ہرمز پر گرفت مزید سخت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چین کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ سے ایران کے ساتھ جاری جنگ پر طویل بات چیت کریں گے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر انھیں چینی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس سے بیجنگ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انہیں تنازعہ حل کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی مدد لینے کی ضرورت ہوگی۔
’میرا نہیں خیال کہ ایران کے معاملے پر ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم یہ جنگ ایک یا دوسرے طریقے سے جیت لیں گے، چاہے پرامن طریقے سے ہو یا کسی اور طرح۔‘
واضح رہے کہ ایک کمزور جنگ بندی کے نافذ ہونے کے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور ایران کسی ایسے معاہدے پر پیش رفت نہیں کر سکے جو دشمنی کو ختم کر سکے۔
روئٹرز کے ذرائع کے مطابق دوسری جانب ایران نے بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے، اور عراق اور پاکستان کے ساتھ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے معاہدے کیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک بھی ایسے ہی معاہدوں کی تلاش میں ہیں، جو تہران کے اس آبی راستے پر مستقل کنٹرول کو معمول بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو کہا کہ گذشتہ ماہ امریکی اور چینی حکام نے اتفاق کیا تھا کہ کوئی ملک اس خطے سے گزرنے والی ٹریفک پر ٹیکس نہیں لگا سکے گا، تاکہ سربراہی اجلاس سے پہلے اس مسئلے پر اتفاق رائے ظاہر کیا جا سکے۔
چین، جو ایران کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے اور اس کا بڑا خریدار ہے، نے اس بیان کی تردید نہیں کی۔ ٹرمپ اس ہفتے شی جن پنگ کے ساتھ جنگ پر بات کرنے والے ہیں اور توقع ہے کہ وہ چین کو قائل کریں گے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرے تاکہ جنگ ختم ہو سکے۔
امریکی مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اس کی گرفت ختم کرنا شامل ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن بحیرہ عرب میں امریکی ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے (فوٹو: یو ایس نیوی)

ایران نے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے، بشمول لبنان جہاں امریکی اتحادی اسرائیل ایران نواز حزب اللہ کے جنگجوؤں سے لڑ رہا ہے۔
دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے اور فی بیرل 107 ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن بحیرہ عرب میں امریکی ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے، جہاں اس نے 65 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا اور چار کو ناکارہ بنایا۔
پینٹاگون نے جنگ کی لاگت اب تک 29 ارب ڈالر بتائی ہے، جو گذشتہ ماہ کے آخر میں دیے گئے اندازے سے 4 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ ایک اہلکار نے قانون سازوں کو بتایا کہ نئی لاگت میں آلات کی مرمت اور تبدیلی اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔
جنگ نے امریکہ بھر میں پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جہاں اپریل میں مسلسل دوسرے مہینے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تقریباً تین سال میں افراطِ زر میں سب سے زیادہ سالانہ اضافہ ہوا۔
سروے ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ امریکی ووٹروں میں غیر مقبول ہے، قومی انتخابات سے چھ ماہ سے بھی کم وقت پہلے، جو یہ طے کریں گے کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں چین پہنچ رہے ہیں جب ایران کے ساتھ جنگ تاحال غیر حل شدہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

روئٹرز، ایپسوس کے پیر کو مکمل کیے گئے ایک سروے کے مطابق تین میں سے دو امریکی، جن میں ایک تہائی ریپبلکن اور تقریباً تمام ڈیموکریٹس شامل ہیں، سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ ملک جنگ میں کیوں گیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کی تعریف کو بڑھا کر ایک ایسے علاقے تک کر دیا ہے جو مشرق میں شہر جاسک کے ساحل سے لے کر مغرب میں سیری جزیرے تک پھیلا ہوا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں چین پہنچ رہے ہیں جب ایران کے ساتھ جنگ تاحال غیر حل شدہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

شیئر: