دنیا کی 17 کروڑ خواتین کو متاثر کرنے والی بیماری PCOS کا نام کیوں بدلا گیا؟
دنیا کی 17 کروڑ خواتین کو متاثر کرنے والی بیماری PCOS کا نام کیوں بدلا گیا؟
منگل 12 مئی 2026 16:22
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پولی سسٹک اووری سنڈروم‘ کا نام اکثر خواتین کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا بھر میں لگ بھگ 17 کروڑ خواتین کو متاثر کرنے والی اور بانجھ پن کی سب سے عام وجہ سمجھی جانے والی بیماری ’پولی سسٹک اووری سنڈروم‘ یا POCS کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد مرض کی تشخیص اور علاج کو مزید بہتر بنانا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تحقیق کاروں نے منگل کو ایک طبی اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ اس پیچیدہ طبی حالت کو اب ’پولی اینڈو کرائن میٹابولک اوویرین سنڈروم‘(PMOS) کا نام دیا گیا ہے۔
یہ نیا نام مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی تنظیموں کے ایک عالمی اتحاد نے مشترکہ طور پر منتخب کیا ہے تاکہ اس بیماری کے وسیع پیمانے پر ہونے والے ہارمونل اور میٹابولک اثرات کی بہتر عکاسی ہو سکے۔
پرانے نام میں کیا خرابی تھی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پولی سسٹک اووری سنڈروم‘ کا نام اکثر خواتین اور معالجین کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا تھا کہ اس بیماری میں اووری (بیضہ دانی) میں رسولیاں یا سسٹس ہونا لازم ہے جبکہ حقیقت میں ایسا ہر مریض کے ساتھ نہیں ہوتا۔
فن لینڈ کی یونیورسٹی آف اولو سے وابستہ ڈاکٹر ترہی پلٹونن نے ’JAMA انٹرنل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں واضح کیا کہ رسولیوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر اور علاج میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔
نیا نامPMOS اس بات کو واضح کرنے کے لیے رکھا گیا ہے کہ یہ محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے جسم کے نظام کو متاثر کرنے والا عارضہ ہے۔
PMOS کی علامات میں ماہواری کے چکر میں بے قاعدگی یا مکمل خاتمہ، بانجھ پن، حمل کے دوران پیچیدگیاں، جسم پر غیر ضروری بالوں کی افزائش، ایکنی، بے چینی، ڈپریشن، وزن میں اضافہ، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں شامل ہیں۔
بیضہ دانی میں سسٹس کے بجائے اکثر ’اینٹرل فولیکلز‘ (رطوبت سے بھری چھوٹی تھیلیاں) کی زیادتی پائی جاتی ہے۔
اگرچہ اس بیماری کا مستقل علاج فی الحال موجود نہیں لیکن اسے ادویات، متوازن غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے کامیابی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگلے تین برسوں کے دوران دنیا بھر کے طبی نظاموں، تربیتی پروگراموں اور رہنما خطوط میں پرانے نام کی جگہPMOS مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔