طائف کے کمشنر شہزادہ فواز بن سلطان نے اتوار کو طائف یونیورسٹی میں ورلڈ روز اینڈ ایرومیٹک پلانٹس فورم یا ’گلاب اور خوشبودار پودوں‘ کے عالمی فورم کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ’گلاب اور خوشبودار پودوں‘ کے عالمی فورم کا دوسرا ایڈیشن گیارہ دن جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں
اس میں 15 ڈائیلاگ سیشنز اور 80 متنوع سرگرمیاں ہوں گی، جس کا مقصد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر زرعی اور خوشبودار پودوں کے شعبے کی سپورٹ اور ترقی ہے۔
اس فورم میں متعدد ورکشاپس اور خصوصی سیشنز شامل ہیں، جن میں جدید ترین زرعی اور اقتصادی ٹیکنا لوجیز پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
ان سیشنز میں طائف میں گلاب کی پیداوار کے مستقبل، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، طائف کے گلاب سے وابستہ ثقافتی ورثے کا تحفظ، پیداوار اور سپلائی چین کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کی جائے گی۔
اس فورم کا مقصد گلاب کے پھولوں اور خوشبودار پودوں کی پیداوار میں طائف کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے جبکہ معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی بڑھانا ہے۔‘
برعاية كريمة وتشريف من صاحب السمو الملكي الأمير فواز بن سلطان بن عبدالعزيز (محافظ الطائف) افتُتح اليوم في #جامعة_الطائف الملتقى العالمي للورد والنباتات العطرية في نسخته الثانية؛ بحضور سعادة رئيس الجامعة أ.د. يوسف بن عبده عسيري وعدد من مسؤولي الجهات الحكومية.
كما حظي حفل الافتتاح… https://t.co/bdzfYTgq9t pic.twitter.com/OarfqDnwub— جامعة الطائف (@TaifUniversity) March 29, 2026
یاد رہے فورم کے پہلے ایڈیشن میں دس دنوں میں تین لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔ یہ طائف کو مملکت کا ’گلابوں کا شہر‘ اور وژن 2030 کے مطابق ایک خاص سیاحتی مقام کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اس ایونٹ سے مملکت کی گلاب اور خوشبودار پھولوں کی صنعت کو فروغ ملنے کی عکاسی حاصل ہوتی ہے۔
دی سسٹینیبل ایگریکلچرل رُورل ڈیویلپمنٹ پروگرام (سعودی رِیف) اس سیکٹر کا اہم سپورٹر ہے جس کی مدد سے گزشتہ چار برسوں میں گلاب کی پیداوار میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور سالانہ 960 ملین گلاب کے پھول پیدا ہوئے۔











