تینوں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کی مکمل حمایت کی ہے: اسحاق ڈار
تینوں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کی مکمل حمایت کی ہے: اسحاق ڈار
اتوار 29 مارچ 2026 19:52
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوسرے مشاورتی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کی مکمل حمایت کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اتوار کو اسلام آباد میں خطے کی صورت حال پر مشاورتی اجلاس کے بعد اسحاق ڈار نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’میں نے تینوں وزرائے خارجہ کے ساتھ نہایت مفید دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ تینوں وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔‘
’وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی صورت حال پر نہایت تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی گفتگو کی۔ وزرائے خارجہ نے جاری تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے خطے میں انسانی جانوں اور معیشت پر تباہ کن اثرات نہایت افسوسناک ہیں۔‘
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کا نتیجہ صرف تباہی اور ہلاکتوں کی صورت میں نکلے گا۔ ان مشکل حالات میں امتِ مسلمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا، جس پر انہوں نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صورت حال کو قابو میں رکھنے، فوجی کشیدگی کے خطرات کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔‘
’وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل اور علاقائی امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بالخصوص خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ چاروں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے سینیئر حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
’میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے اپنے برادر وزرائے خارجہ کا پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کی حمایت پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کی حمایت پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘ (فوٹو: وزارت خارجہ)
اسحاق ڈار نے کہا کہ ان وزرائے خارجہ کے دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس میں شرکت تھا، جو آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ آپ کو یاد ہوگ ا کہ اس سلسلے کا پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں منعقد ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے اور اس تنازعے کے خاتمے کے لیے تمام کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
’پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی اہم تعلقات ہیں اور ہم صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے کے لیے امریکی قیادت سے بھی مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ان وزرائے خارجہ کے دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس میں شرکت تھا۔ (فوٹو: وزارت خارجہ)
انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں، پاکستان اس بات پر خوش ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
’پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا، تاکہ جاری تنازعے کا جامع اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔‘