Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ’اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ’اجتماعی کوششوں‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس کے بارے میں دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اجلاس خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مہمان وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں نے جنگ کے فوری خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جو کہ نہ صرف ایران بلکہ دوسرے برادار مسلم ممالک میں انسانی جانوں، معشیت اور املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘
وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو سراہا۔
اس سے پہلے اتوار کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کی شام وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئےموجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد پیر کو اپنے ممالک کے لیے واپس روانہ ہو گئے۔ 
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری مشرقِ وسطیٰ سید احمد معروف، ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی اور وزارت خارجہ کے دیگر حکام نے مہمانوں کو رخصت کیا۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، جمہوریہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان اور جمہوریہ مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے تھے۔
وزرائے خارجہ نے اجلاس میں موجودہ علاقائی صورت حال پر نہایت تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازع وسیع تر خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہےجو انتہائی افسوسناک ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کا نتیجہ صرف موت اور تباہی کی صورت میں نکلے گا، ان مشکل حالات میں امت مسلمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا۔
مہمان وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا (فوٹو: وزارت خارجہ)

مشاورتی اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے، کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بشمول تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر عمل درآمد پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی طرف سے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
پچھلے مہینے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نہ صرف جاری ہے بلکہ وسیع تر علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ تہران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بھی امریکہ کے اڈوں کو حملے کیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

شیئر: