Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن عالمی تیل کی منڈیوں پر آبنائے ہرمز کے دباؤ کو کس طرح کم کر رہی ہے؟

سعودی عرب کی پیٹرولائن دوبارہ خبروں میں ہے اور عالمی توانائی کی منڈی پر دباؤ کم کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن 40 سال پہلے ایک پرانے علاقائی تنازع کے پس منظر میں بنائی گئی تھی جس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
اب سعودی عرب کی پیٹرولائن (تیل کی بڑی پائپ لائن) دوبارہ خبروں میں ہے اور ایک بار پھر عالمی توانائی منڈی پر دباؤ کم کر رہی ہے۔
سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک بچھائی گئی یہ پائپ لائن دو بڑی نالیوں اور کئی پمپنگ سٹیشنوں پر مشتمل ہے جو تیل کو 1200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مشکل زمین سے گزار کر مشرقی صوبے کے ابقیق کے تیل کے میدان سے ینبع کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔
اب جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنا بہت محدود ہو گیا ہے، 40 سال پرانی یہ پیٹرولائن اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ فعال ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی قومی تیل کمپنی نے 28 فروری کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوتے ہی پیٹرولائن کی کارکردگی بڑھانے کا منصوبہ فوراً فعال کر دیا۔
چار مارچ تک یہ تقریباً اپنی مکمل صلاحیت پر پہنچ چکی تھی، اور وہ ٹینکر جو عام طور پر خلیج کی بندرگاہوں کی طرف جاتے تھے، اب بحیرہ احمر کی جانب روانہ ہونے لگے۔
روزانہ سات ملین بیرل تیل جو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جا رہا ہے، وہ اس کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتا جو عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 15 ملین بیرل تیل کی وجہ سے ہوتی ہے، جو دنیا کی روزانہ کی بنیاد پر  ضرورت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔
لیکن بلومبرگ نے ہفتے کو رپورٹ میں بتایا کہ پیٹرولائن ایک بڑی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔
تیل کی سمندری ترسیل نہ صرف حملوں کے خطرے کی وجہ سے متاثر ہے بلکہ ان حملوں کے خوف اور بڑھتی ہوئی انشورنس کی قیمتوں کی وجہ سے بھی متاثر ہو رہی ہے۔
تیل لے جانے والے جہازوں کی انشورنس کی قیمت جہاز کی کُل قیمت کے فیصد کے حساب سے لگائی جاتی ہے، جو اس کی دوبارہ خرید کی لاگت ہوتی ہے۔
لائیڈز لسٹ کے مطابق عام حالات میں ایک ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی انشورنس نشورنس کی قیمت جہاز کی کل قیمت (ہل ویلیو) کا 0.15 سے 0.25 فیصد ہوتی ہے لیکن حالیہ دنوں میں یہ شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور کچھ مقامات پر 10 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے کچھ کمپنیوں اور یہاں تک کہ ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایران سے سودے بازی کریں تاکہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت مل سکے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایران کی شرطیں مان کر ٹرانزٹ فیس یا اجازت لے رہے ہیں، کیونکہ ایران نے راستے کو سختی سے کنٹرول کر رکھا ہے۔
گذشتہ ہفتے تھائی لینڈ نے تصدیق کی کہ تھائی پرچم والا ایک ٹینکر جو بنگچک کارپوریشن کی ملکیت ہے، ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزرا۔
اس بحران کے دوران پیٹرولائن نے عالمی توانائی منڈی کو جو ریلیف فراہم کیا، اس سے ایک دلچسپ امکان سامنے آتا ہے۔
اگر سعودی عرب ایک اور پائپ لائن بنا لے اور اس کی صلاحیت دوگنی کر دے تو ایران کا اس راستے پر اثر و رسوخ ختم ہو سکتا ہے۔
البته، اس سے دنیا کے وہ جہاز جن میں کنٹینر اور دیگر ضروری سامان لے جانے والے بڑے بحری جہاز شامل ہیں، جو اس تنگ راستے سے گزرتے ہیں، ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

 

شیئر: