آبنائے ہرمز سوائے ’دشمن کے جہازوں‘ کے سب کے لیے کھلی ہے: ایران
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے (ٖفوٹو: روئٹرز)
اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی میں شامل ایران کے نمائندے علی موسوی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھلی ہے سوائے ’دشمنوں کے جہازوں کے۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ بات انہوں نے یہ بات چینی خبر رساں ایجنسی ژنوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹے کے اندر مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کو ایران کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ انتہائی اہمیت کی حامل اس گزرگاہ سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
علی موسوی جو برطانیہ میں ایران کے سفیر بھی ہیں، کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو بہتر بنانے اور خلیج میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے دشمنوں‘ کے علاوہ باقی بحری جہاز حفاظتی تعاون کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔
علی موسوی نے یہ بھی کہا کہ ’سفارت کاری ایران کی ترجیح ہے تاہم جارحیت کا مکمل خاتمہ اور باہمی اعتماد اس سے زیادہ اہم ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس وقت آبنائے ہرمز کی جو صورت حال ہے اس کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے حملے ہیں۔‘
خیال رہے اس وقت ایران جنگ کے باعث خطے ہی نہیں دنیا بھر میں ذرائع توانائی کے حوالے سے بحرانی کیفیت پائی جاتی ہے۔
28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے مسلسل جنگ جاری ہے، جس میں ایران خلیجی ممالک میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے جب کہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بھی بند کیا گیا ہے جو عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کے لیے بہت اہم گزرگاہ ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران سر اٹھا چکا ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔