Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کو تیل کی نقل و حمل کے لیے آبنائے ہرمز کھولنا ہو گی: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو امن معاہدے کے لیے آبنائے ہرمز کو تیل کی نقل و حمل کے لیے کھولنا ہو گا۔
تہران کی جانب سے تردید کے باوجود جمعے کو اپنے اس دعوے کو دہراتے ہوئے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے، امریکی صدر نے کہا کہ مہینوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران ’بھاگ رہا ہے‘ اور اپنے ان دعوؤں کا اعادہ کیا کہ تہران کی قیادت، بحریہ، فضائیہ اور ایٹمی پروگرام کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
میامی میں سعودی عرب کے تعاون سے منعقدہ ’ایف آئی آئی پرائرٹی‘ سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’ہم اب مذاکرات کر رہے ہیں اور یہ بہت اچھا ہو گا اگر ہم کچھ کر سکیں لیکن انہیں اسے (آبنائے ہرمز کو) کھولنا ہو گی۔‘
امریکی صدر نے علاقائی استحکام کے حصول کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے دیگر خلیجی رہنماؤں کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک ’عظیم انسان‘ اور ’قریبی دوست‘ قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے ولی عہد پر فخر ہونا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے لیے ’نیٹو میں رہنا ضروری نہیں۔‘
ان کے اس تبصرے نے ایک بار پھر بحر اوقیانوس کے پار اتحاد کے مرکز میں موجود باہمی دفاعی دفعات کے حوالے سے امریکی صدر کے عزم پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر نالاں ہیں کہ یورپی نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں امریکہ کو مادی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حاضرین سے کہا ’ہم ہمیشہ ان کے لیے وہاں موجود ہوتے لیکن اب ان کے اقدامات کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ ہمیں رہنے کی ضرورت نہیں ہے، ہے نا؟‘
انہوں نے مزید کہا ’کیا یہ کوئی بریکنگ نیوز لگ رہی ہے؟ جی ہاں جناب۔ کیا یہ بریکنگ نیوز ہے؟ میرا خیال ہے کہ ابھی ابھی ہمیں ایک بریکنگ نیوز ملی ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ میں یہ کہتا رہا ہوں۔ اگر وہ ہمارے لیے کھڑے نہیں ہوئے تو ہم ان کے لیے کیوں کھڑے ہوں؟ وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔‘
جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ’ایک آپشن‘ ہے (جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ مؤثر طریقے سے کیا ہے) باوجود اس کے کہ جنگ ابھی جاری ہے۔
تنازع سے پہلے آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی تھی لیکن اس تنگ آبی گزرگاہ پر اب آمد و رفت مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
جمعے کو ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے مستقل ’ٹولنگ سسٹم‘ (محصول کا نظام) قائم کرنے کی کوشش کرے گا جہاں سے عام طور پر دنیا کے کل تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

 

شیئر: