سعودی عرب کا نیا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا، گرم کھانے کے 24 ہزار پیکٹ تقسیم
یہ اقام مختلف شعبوں میں امدادی اور انسانی کوششوں کی توسیع ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے بدھ یکم اپریل کو فلسطینی عوام کے لیے امدادی مہم کے ایک حصے کے طور پر شاہ سلمان مرکز کے ذریعے ایک نیا قافلہ غزہ بھیجا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق امدادی قافلے میں بڑی تعداد میں فوڈ باسکٹس شامل ہیں۔
علاوہ ازیں غزہ میں سعودی امدادی ایجنسی کے زیر انتظام ایک مرکزی کچن سے بے گھر خاندانوں کو 24 ہزار گرم کھانے کے پیکٹ فراہم کیے گئے۔
یہ امداد سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز کی جانب سے غزہ کی پٹی میں متاثرہ افراد اور ضرورت مندوں کو مختلف شعبوں میں امدادی اور انسانی کوششوں کی توسیع ہے۔
سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹج، جو غزہ کی پٹی میں شاہ سلمان مرکز کا ایگزیکٹیو پارٹنر ہے، کی فیلڈ ٹیمیں امداد کے تقسیم کے عمل کی نگرانی کر رہی ہیں، اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ انتہائی ضرورت مند خاندانوں ترجیح دی جائے۔ خان یونس کے پناہ گزین کیمپوں میں فوڈ باسکٹس تقسیم کی گئی ہیں۔
یاد رہے 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب نے امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز کے ذریعے فضائی اور بحری امدادی پل قائم کیے۔
اب تک 80 طیاروں اور 8 بحری جہازوں کے ذریعے ساڑھے 7 ہزار ٹن سے زیادہ امداد فراہم کی گئی۔

اس میں خوراک، طبی سامان، آلات اور شیلٹر شامل ہیں۔ سیکڑوں امدادی ٹرک خوراک اور طبی امداد لے کرغزہ پہنچے۔ اس کے علاوہ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کو 20 ایمبولینسں فراہم کی ہیں۔
سعودی امدادی ایجنسی نے غزہ کی پٹی میں امدادی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ 90.35 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔
