سعودی اور یورپی وزرائے خارجہ کا جہاز رانی کو درپیش خطرات پر تبادلۂ خیال
منگل 21 جولائی 2026 19:58
ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے منگل کو اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی اور سپین کے وزیر خارجہ جوزے مینویل الباریز کے ساتھ رابطے میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت کی۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کے جنوبی علاقے کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی۔ خلیج عرب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور سکیورٹی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور ایسے کسی بھی اقدام یا عمل کو مسترد کیا جو آبی گزرگاہوں کی سکیورٹی اور سیفٹی کو خطرے میں ڈالیں۔
ایس پی اے کے مطابق جرمنی کے ہم منصب ڈاکٹر جوہان واڈے فل سے رابطے میں سعودی عرب اور جرمنی کے تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال اور اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات کی۔
یاد رہے سعودی وزارت خارجہ نے پیر کو حوثیوں کے فوجی ترجمان کی جانب سے اس دعوے کی شدید مذمت کی تھی کہ حوثی ملیشیا نے مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
حوثی ملیشیا پر الزام لگایا کہ وہ یمن کو وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں۔ بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے حملوں نے یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول معاشی حالات ابتر ہوگئے۔
سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جن میں سرفہرست یمن سے متعلق قرارداد 2216 اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادی سے متعلق قرارداد 2722 شامل ہیں۔
