خاتون انسٹریکٹر جو سعودی لڑکیوں کو ڈرائیونگ سکھا رہی ہیں
خواتین کو با اختیار بنانے میں مدد کی خواہش اس شعبے میں لائی (فوٹو: اخبار24)
سعودی خاتون ڈرائیونگ انسٹرکٹر بلقیس کا کہنا ہے’اس فیلڈ میں اتفاقیہ طور پر قدم رکھا، اس میں کسی منصوبے کا دخل نہیں تھا۔
ایک ایسا سفر جو اتفاقیہ شروع ہوا اور پروفیشنل مہارت پر ختم ہوا، اب وہ سعودی لڑکیوں کو ہائی ویز کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہی ہیں۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’جس چیز نے مجھے اس شعبے سے منسلک کیا وہ خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنا اور انہیں با اختیار بنانے میں مدد کی خواہش تھی۔‘
انہوں نے بتایا ’جوں جوں میں اس کام میں آگے بڑھی، میرا یہ احساس قوی ہوتا گیا کہ لڑکیوں کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے اعتماد دیا جاسکتا ہے اور یہی میری خواہش بھی تھی۔‘
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا ’ بطور انسٹرکٹر سب سے بڑا چیلنج جس کا سامنا رہا، وہ سمجھ کی کمی اور غلطیوں کا اعادہ ہے۔ بعض اوقات ڈرائیونگ سیکھنے کی خواہشمند لڑکیوں کو ایک ہی چیز 50 سے زیادہ مرتبہ سمجھانی پڑتی تھی۔ میں ان سے یہی کہتی ہوں’ یاد کرلو یا سمجھ لو۔
ٹریننگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا’ ابتدائی کلاسزمیں سیکھنے والی لڑکیوں کے اعتماد کو بحال کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے، پہلی کلاس کے 30 منٹ میں ان کے خوف کو ختم کرنا اہم ہوتا ہے اور اسی پر فوکس کیا جاتا ہے۔ جب ان دیکھا خوف ختم ہوجائے تو آگے کے مراحل آسان ہوجاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’ اس میں عمر کا کردار بھی اہم ہوتا ہے، 20 سالہ لڑکی کی ٹریننگ کےلیے ایک ہفتے سے 10 دن کافی ہوتے ہیں تاہم جوں جوں عمر بڑھتی ہے اس دورانیے میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔‘
ٹریفک حادثات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا ’حادثات کا بنیادی سبب خوف اور گھبراہٹ نہیں، ٹریفک قوانین سے لاعلمی ہے ۔ اگر قوانین کے بارے میں پختہ معلومات ہوں اور ان پر سختی سے عمل کیا جائے تو حادثات رونما نہیں ہوں گے۔‘
خاتون ڈرائیونگ انسٹرکٹر کا کہنا تھا’ ڈرائیونگ سیکھنے کی خواہشمند خواتین کو صرف ایک ہی مشورہ دوں گی کہ وہ ’درست ٹریننر کا انتخاب کریں اور پرسکون رہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ’ ڈرائیونگ کا انحصار سب سے پہلے ہمت پر ہے، دلیری اور خود اعتمادی بعد میں آتی ہے۔‘