Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم ریجن میں ’گل داودی‘ نے صحرائی ماحول کو خوشنما بنا دیا

موسم بہار کی علامت سمجھا جانے والا یہ پودا منفرد خصوصیات کا  حامل ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں بہار کے موسم کی آمد کے ساتھ اپنی قدرتی خوبصورتی اور رنگوں کے تنوع کے ساتھ جنگلی پودا اقحوان ’گل داؤدی‘ صحرائی ماحول کو منفرد جمالیاتی رنگ دے رہا ہے۔
یہ موسمی پودا مملکت کے کئی علاقوں میں وسیع رقبے پر پھیلتا ہے اور قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو مزید خوشنما بنا دیتا ہے۔ موسم بہار کی علامت سمجھا جانے والا یہ پودا منفرد خصوصیات کا حامل ہے۔
قصیم ریجن کے صحرائی علاقوں میں بارشوں کے بعد اس پودے کی نشوونما ہوئی ہے ، یہ پودا وہاں کی چراگاہوں اور میدانوں میں بکثرت دکھائی دیتا ہے۔
اقحوان( گل داودی) ایک پھولدار پودا ہے جو ’سورج مکھی‘ کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، اس کے پھول سورج کی مانند دکھائی دیتے ہیں جو سفید و زرد رنگوں کے حامل ہوتے ہیں۔
 پودے کی خوبصورتی ہی اس کی خاصیت نہیں، بلکہ اس کی ماحولیاتی اہمیت بھی ہے، یہ پودا مٹی کو مضبوط بنانے اور اسے کٹاو سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

شہد کی مکھیوں کے لیے بہترین خوراک فراہم کرتا ہے، بعض ثقافتوں میں اسے طبی مقاصد جبکہ کہیں اسے خوشبو کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس پودے کے ڈیزائن کو تعمیراتی نقوش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ آرائش اور فیشن کی دنیا میں اس خوشنما پودے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے’ قدرت کے ان بے مثال خزانوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام میں ماحولیاتی تحفظ کے شعور کو اجاگر کیا جائے اور پودوں کو تلف کرنے سے روکا جائے تاکہ اس قدرتی حسن و دلکشی کو دیرپا بنایا جاسکے۔‘

 

شیئر: