آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مشاورت، سعودی عرب کی ورچوئل اجلاس میں شرکت
جمعرات 2 اپریل 2026 21:16
اجلاس میں انجینیئر ولید الخریجی نے سعودی وزیر خارجہ کی نیابت کی۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی نائب وزیر خارجہ نے جمعرات کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔
ایس پی اے کے مطابق ورچوئل اجلاس میں 35 ملکوں نے شرکت کی، انجینیئر ولید الخریجی نے سعودی وزیر خارجہ کی نیابت کی۔
ورچوئل اجلاس میں باب المندب اور بین اقوامی پانیوں میں فریڈم آف نیویگیشن کے ساتھ علاقائی و بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے آبنائے ہرمز میں تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی کوششوں پر بات کی گئی۔
اجلاس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی نیوگیشن میں مداخلت یا باب المندب میں میری ٹائم سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کسی بھی اقدام یا دھمکی کی مذمت کی۔
اجلاس نے زور دیا کہ’ گلوبل فریڈم آف نیویگیشن کی کوئی بھی خلاف ورزی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ میری ٹائم سکیورٹی اور اس کے لیے اجتماعی کارروائی ضروری ہے۔‘
اجلاس میں سعودی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل پالیسی پلاننگ شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر نے بھی شرکت کی۔

عرب نیوز کے مطابق برطانیہ نے کہا ہے کہ’ قریباً 40 ممالک آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ کارروائی کرنے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، تاکہ ایران کو ’عالمی معیشت کو یرغمال بنانے‘ سے روکا جا سکے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ بات اس وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس آبی راستے کو محفوظ بنانا دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے۔
