Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طائف میں عرقِ گلاب کی تیاری ایک قدیم ترین خشبودار زرعی ہنر

طائف میں عرقِ گلاب کی تیاری، طائف گورنریٹ میں قدیم ترین ایسا زرعی ہنر ہے جسے آج بھی شوق سے سر انجام دیا جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عرقِ گلاب کی کشید کا، گلابوں کی کاشت سے انتہائی گہرا تعلق ہے جس کا کُل دورانیہ ہر موسمِ بہار میں تقریباً 45 دن تک کا ہوتا ہے۔
اس دوران گلابوں کو بڑی احتیاط سے ٹہنیوں سے چُنا جاتا ہے اور اس کے لیے صبح سویرے کا وقت منتخب کیا جاتا ہے تاکہ گلاب میں اُس کے نازک عِطریات محفوظ رہ سکیں۔
علی الشیخ طائف میں گلاب کے کاشتکار ہیں اور بتاتے ہیں کہ کشید کا عمل اسی وقت شروع ہوتا ہے جب تازہ گلابوں کو ٹہنیوں سے اتار کر روایتی کشید گاہوں میں منتقل کیا جاتا ہے جنھیں مقامی زبان میں ’پکانے کی ہنڈیا‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
تانبے سے بنی ہوئی ان بڑے بڑے برتنوں میں بہت ناپ تول کر گلاب اور پانی ڈالا جاتا ہے۔ پھر انھیں مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے اور دھیمی یا معتدل درجے کی آنچ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ جُوں جُوں گلاب اور پانی اُبلنا شروع ہوتے ہیں خشبودار تیل سے معطر، بخارات بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
اِن بخارات کو ٹھنڈے برتنوں تک پہچانے کے لیے خوصی نلکیاں استعمال کی جاتی ہیں جہاں یہ بخارات ٹھنڈے ہوتے ہوتے گیس سے انتہائی خشبودار مائع کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس طریقے سے خالص عرقِ گلاب اور گلاب کا تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ گلاب کے تیل کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ دنیا میں سب سے مہنگا تیل ہوتا ہے جسے روغنِ گلاب بھی کہا جاتا ہے۔

الشیخ کا کہنا تھا کہ عرقِ گلاب کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سب سے نمایاں فائدہ اس کا پرفیوم کی صنعت میں استعمال ہے۔ عرقِ گلاب کو بخورات، کاسمیٹکس اور جِلد کی حفاظت کے لیے بنائی گئی پروڈکٹس میں بھی کام میں لایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، گلاب کے عرق کو خوراک کی صنعت، روایتی مٹھائیوں اور مشروبات کے ساتھ ساتھ کھانے کی مقبول ترین ترکیبوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس کی ثقافتی اور معاشی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

شیئر: