دربِ زبیدہ کے تالاب: ایک مکمل آبی نظام جس نے عازمین حج کی پیاس بجھائی
درب زبیدہ کے تالاب، اسلامی تاریخ میں انسانی خدمت اور انجینیئرنگ کے ایک منفرد شاہکار کی نمائندگی کرتے ہیں۔
عراق سے مکہ مکرمہ تک پھیلے ہوئے قدیم حج شاہراہ پر یہ تالاب آبی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اہم تھے۔ انہیں بارش کے پانی کو جمع کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک تھا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق عہدِ رفتہ میں عراق سے مکہ مکرمہ کا راستہ طویل تھا جب لوگ اونٹوں، گھوڑوں اور پیدل قافلوں کی شکل میں حج و عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آتے تھے۔
درب زبیدہ اور تالابوں کی داستان دوسری صدی ہجری سے شروع ہوتی ہے۔ زیبدہ بنت جعفر جو خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ تھیں جب حج کے سفر پرروانہ ہوئیں تو پانی کی شدید قلت اور طلب کا بذات خود مشاہدہ کیا۔ سفر سے واپسی پر انہوں نے پورے راستے مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی کے ذرائع مہیا کیے۔
قدیم حج کا راستہ جنوبی عراق سے شروع ہوتا ہے، مملکت کے شمالی علاقے رفحاء، حائل اور قصیم سے گزرتا ہوا مکہ مکرمہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

درب زبیدہ پر ایک مکمل آبی نظام تھا جس سے صدیوں تک عازمین حج اور عام مسافروں کی پانی کی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔
ان تالابوں کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ کچھ گول جبکہ بعض مستطیل شکل میں تعمیر کیے گئے تھے۔ ان میں ’برکۃ العشار، الشیحیات، الجمیماء اور برکۃ الثلیما نمایاں ہیں۔

تالابوں کو اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ ان میں جمع ہونے والا پانی، مٹی کو نیچے بیٹھا دیتا تھا جبکہ سیلابی پانی کو جمع کرنے کے لیے آبی ڈیم بنائے گئے تھے جو اس دور کی فنی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
درب زبیدہ کے تالاب اور حوض صدیوں تک عازمین حج کی آبی ضرورت کو پورا کرتے رہے، اس کے آثار مختلف ادوار میں قائم رہے۔ آج بھی ان کے کچھ نقوش موجود ہیں جو اسلامی تہذیب میں آبی انجینیئرنگ کی ترقی، انسانی خدمت کے جذبے اور اسلامی فن تعمیر کی تابناک مثال ہیں۔
