اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران عراق کے صحرائی علاقے میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا: حکام
اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران عراق کے صحرائی علاقے میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا: حکام
ہفتہ 16 مئی 2026 16:14
سیٹلائٹ تصاویرمیں اس مقام پر انسانوں کی بنائی گئی ایک پٹی دکھائی دیتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عراقی اور امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کی افواج نے ایران کے خلاف امریکی، اسرائیلی جنگ کے آغاز پر عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی پوسٹ قائم کی تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس خفیہ اسرائیلی فوجی تنصیب کی خبر سب سے پہلے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے دی تھی جس کے مطابق یہ ایک ایسا اڈہ تھا جہاں خصوصی دستے موجود تھے اور جو اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
اس خفیہ اڈے کی خبروں نے عراق میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ کے آغاز میں عراقی فوج نے صحرائے نخیب میں ایک غیر مجاز فوجی قوت کی موجودگی کی اطلاعات کی تحقیقات کیں۔ یہ ویران علاقہ کربلا اور نجف کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق اس مقام کی طرف جاتے ہوئے عراقی فوجی دستوں پر فائرنگ بھی کی گئی۔
عراقی حکام نے صحرا میں ایک مختصر مدت کے لیے موجود غیر مجاز چھوٹے فوجی دستے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اسرائیلی تھا۔ لیکن دو عراقی سکیورٹی و انٹیلی جنس اہلکاروں اور ایک سینئر امریکی فوجی افسر نے تصدیق کی کہ وہ اسرائیلی فورس تھی۔
امریکی اہلکار نے کہا کہ اسے 'فوجی اڈہ' کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ یہ ایران میں کارروائیوں کی معاونت کے لیے ایک عارضی کیمپ یا سٹیجنگ ایریا تھا۔
ایک عراقی انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق اسرائیلی فورس نے علاقے میں خیمے نصب کیے تھے اور اس کا مقصد بعض عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ اور ڈرون حملوں کی نگرانی تھا۔ عراقی حکام کا خیال ہے کہ یہ فورس فضائی راستے سے اتاری گئی تھی، تاہم انہیں اس کے پہنچنے کے وقت کا علم نہیں۔
حکام کے مطابق ایک چرواہے نے اس فورس کی موجودگی دیکھی اور حکام کو اطلاع دی۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد خطے میں جنگ بھڑک اٹھی۔(فوٹو: اے پی)
اسرائیلی فوج نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ امریکی محکمہ دفاعکے قائم مقام ترجمان جوئیل والڈیز نے بھی کوئی بیان نہیں دیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد خطے میں جنگ بھڑک اٹھی۔ عراق اس تنازع میں بری طرح متاثر ہوا کیونکہ وہاں ایران سے منسلک ملیشیاؤں کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے، جنہوں نے عراق اور خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے عراق میں ملیشیا کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔
عراقی حکومت نے دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ عراق کو اس تنازع سے دور رکھا جائے۔ تاہم عراق کے لیے یہ صورتحال شرمندگی کا باعث بنی کہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فورس ان کی نظروں کے سامنے کارروائیاں کرتی رہی۔
منگل کے روز عراقی فوج صحرا میں مبینہ اسرائیلی پوسٹ کے مقام پر صحافیوں کو لے گئی تاکہ دکھایا جا سکے کہ وہاں کسی طویل المدتی فوجی موجودگی کے آثار نہیں ہیں۔
عراقی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عبد الامیر یار اللہ نے کہا کہ 'ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دستہ تھا جو زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے وہاں رہا۔'
عراقی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل تحسین الخفاجی نے بتایا کہ 3 مارچ کو فوج کو نجف کے صحرا میں ایک مخصوص مقام پر دشمن کی ایک چھوٹی فورس کی اطلاع ملی، جس کے بعد اگلے روز عراقی فوج وہاں پہنچی۔
اس خفیہ اڈے کی خبروں نے عراق میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ (فوٹو: اے پی)
انہوں نے کہا کہ '25 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچنے کے بعد ہماری فورس پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں ہمارا ایک سپاہی شہید اور دو زخمی ہوئے۔'
الخفاجی کے مطابق حملے کے بعد عراقی فورس واپس آ گئی، لیکن اگلے دن دوبارہ وہاں پہنچی تو نہ کسی اڈے کے آثار ملے اور نہ کوئی فوجی موجود تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر، جو 8 مارچ کو ایئربس ڈی ایس نے لیں اور جن کا جائزہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے لیا، ان میں اس مقام پر انسانوں کی بنائی گئی ایک پٹی دکھائی دیتی ہے۔
یہ مقام بغداد سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ خشک جھیل کے اندر بنی یہ سیدھی پٹی تقریباً 1.5 کلومیٹر لمبی ہے، جو جنگی طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
قریب ترین قصبہ النخیب تقریباً 45 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، جو سعودی عرب کی سرحد کی طرف جانے والی سڑک پر ہے۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ ممکنہ طور پر اس سرگرمی نے زیادہ توجہ حاصل نہیں کی، حالانکہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران عراق کی فضائیں امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں سے بھری ہوئی تھیں۔