وزارتِ سیاحت کی جانب سے مکہ و مدینہ کے ہوٹلوں کے لیے حج ضوابط جاری
وزارتِ سیاحت کی جانب سے مکہ و مدینہ کے ہوٹلوں کے لیے حج ضوابط جاری
جمعہ 10 اپریل 2026 21:45
رہائشی خلاف ورزیوں پرہوٹل کو سیل بھی کیا جاسکتا ہے(فوٹو، ایس پی اے)
وزارتِ سیاحت نے حج سیزن کی تیاریوں کے حوالے سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائشی ہوٹلز اور فرنشڈ اپارٹمنٹس کے لیے ضوابط جاری کردیئے ہیں۔
اخبار 24 کے مطابق رہائشی سیکٹر میں خلاف ورزیوں پر سخت سزاوں اور جرمانوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ سنگین نوعیت کی خلاف ورزی پر لائسنس معطل یا منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری ضوابط میں کہا گیا ہے کہ حج سیزن کے دوران دہرائی جانے والی خلاف ورزی پر مقررہ جرمانہ دگنا کردیا جائے گا۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ وہ خلاف ورزیاں جن پر مالی سزائیں مقرر نہیں، ایسی صورت میں خلاف ورزی دہرائے جانے پر متعلقہ کمیٹی عارضی طورپر ادارہ کو سیل یا اس کا لائسنس معطل کرنے کا بھی اختیار رکھتی ہے، جبکہ تیسری بار خلاف ورزی ریکارڈ کیے جانے کی صورت میں لائسنس مکمل طورپر منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
جرمانوں کے حوالے سے وزارت کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حج سیزن کے دوران رہائشی ہوٹلز کی خلاف ورزیوں پر جرمانے 2 ہزار سے 14 ہزار ریال تک مقرر کیے گئے ہیں ، جبکہ عارضی رہائش کے لیے جرمانہ ایک ہزار سے 50 ہزار ریال تک ہوسکتا ہے۔
وزارتِ سیاحت نے حج سیزن کے حوالے سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوٹلز اور دیگر رہائشی مراکز کو ضوابط مکمل طورپر عمل کرنے کا پابند بنایا ہے۔
وزارت کے مطابق حج سیزن کا آغاز ہر برس یکم ذی القعدہ سے کیا جاتا ہے جو محرم کے وسط تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران حجاج کو معیاری و مقررہ خدمات فراہم کرنا لازمی ہے۔
عازمین حج کو مقررہ سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے(فوٹو، ایکس اکاونٹ)
وزارت نے رہائشی ہوٹلرز اور اپارٹمنٹس کو 5 درجوں میں تقسیم کیا ہے، جن میں فائیوسٹارلگژری، فورسٹار، تھری سٹار، ٹوسٹار ، اکانوی اور دیگر عام رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔
خلاف ورزیوں پرجرمانوں کا تعین ادارے کے حجم کے مطابق کیا جائے گا جس کے تحت انتہائی چھوٹے اداروں پر 25 فیصد ، درمیانے پر 75 فیصد اور بڑے اداروں پر 100 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
واضح رہے وزارتِ سیاحت نے اس اقدام کو حج سیزن کے دوران خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور عازمین حج کو محفوظ و معیاری رہائشی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔