پاکستان میں ‘آن لائن ہراسانی میں اضافہ،‘ کیا ہمارے بچے سوشل میڈیا پر محفوظ ہیں؟
پاکستان میں ‘آن لائن ہراسانی میں اضافہ،‘ کیا ہمارے بچے سوشل میڈیا پر محفوظ ہیں؟
جمعرات 16 اپریل 2026 8:38
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
حالیہ چند برسوں کے دوران بچوں کی آن لائن ہراسانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے (فوٹو: پکسابے)
انسٹاگرام کھولتے ہی جب انیلہ (فرضی) کو یہ احساس ہوا کہ ان باکس پیغامات سے بھرا ہوا ہے اور ایک درجن سے زیادہ میسجز آئے ہوئے ہیں تو ان کے حواس جواب دینا بند ہو گئے۔ یہ پیغامات ان کے اپنے دوستوں اور کچھ اجنبیوں کی جانب سے آئے تھے۔
سب لوگ ایک بات ہی پوچھ رہے تھے کہ کیا یہ تم ہو؟ اور پھر کئی سکرین شاٹس بھی ساتھ منسلک تھے۔ انیلہ کی تصاویر کسی نے ایک ایسے کنفیشن گروپ میں ڈال دی تھیں جہاں لوگ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر ایسی باتیں کرتے ہیں جو وہ نارمل زندگی میں نہیں کر سکتے۔
انیلہ کی عمر صرف 15 سال ہے اور ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ ان کی نارمل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر ایک ایسے گروپ میں ڈال دی گئی تھیں جو ’کنفیشنز‘ کے لیے بنا تھا اور اس مقصد کے لیے جعلی آئی دی استعمال کی گئی تھی۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میرے لیے یہ ایک بہت مشکل صورت حال تھی۔ یہ کنفیشن پیج مختلف سکولوں کالجوں کے نام سے بنے ہوئے ہیں جنہیں چلانے والوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور عام طور پر لوگ اپنے خود ساختہ معاشقوں کی جعلی کہانیاں وہاں لکھتے رہتے ہیں اور کسی نے ایسی ہی کسی کہانی کے ساتھ میری تصاویر لگا دی تھیں۔‘
وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’یہ بھیانک تھا والدین کو پتا چل جاتا تو وہ سکول سے ہی چھڑوا دیتے۔ پھر میں نے اپنی بڑی بہن سے بات کی اور انہوں نے کہیں رابطہ کیا اور پھر دو دن میں وہ پوسٹ ہٹا دی گئی۔‘
کچھ ایسی ہی داستان محمد عمیر (فرضی نام) کی بھی ہے جن کی عمر محض 12 سال ہے۔ ان کے ساتھ بھی یہی ہوا اور ان کی تصاویر بھی ایک گروپ میں ڈال دی گئیں۔ ان کے بڑے بھائی بتاتے ہیں کہ ’عمیر کو پتہ تھا کہ اس کے ساتھ یہ کرنے والا اس کا اپنا ہم جماعت تھا جو اس کو بلیک میل کر رہا تھا۔‘
’عمیر کی تصاویر جب ایسے گروپوں میں ڈالی گئیں تو اس نے مجھے روتے ہوئے بتایا اور پھر ہم نے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔‘
ہراسانی کے سب سے زیادہ واقعات 18 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں نے رپورٹ کیے (فوٹو: پکسابے)
’پہلے تو ان تصاویر کو ہٹانا ضروری تھا۔ ہم نے وہ کیا اور اس کے بعد سکول انتظامیہ سے بات کی اور اس بچے کے گھر والوں تک بات پہنچی اور پھر یہ مسئلہ حل ہوا لیکن عمیر نے بہت تکلیف برداشت کی۔‘
پاکستان میں بچوں کی آن لائن ہراسمنٹ میں اضافہ
یہ چند کہانیاں ان بچوں میں سے کچھ کی ہیں جن کو سال 2025 میں آن لائن ہراسانی یا گرومنگ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے کسی نہ کسی طرح ان واقعات کو رپورٹ کر دیا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن (ڈی آر ایف) نامی تنظیم نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ چند برسوں میں بچوں کی آن لائن ہراسانی کے واقعات میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں یہ اضافہ 51 فیصد تھا جبکہ سال 2025 میں ایسے واقعات میں مزید 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو ایک خطرناک رجحان کی نشان دہی کر رہا ہے۔‘
ڈی آر ایف ہیلپ لائن میں ایسے کیسز کو براہ راست ڈیل کرنے والی انمول سجاد بتاتی ہیں کہ ’میرے خیال میں اس وقت چائلڈ سیفٹی کے حوالے سے بحرانی حالات ہیں اور اس کی بڑی وجہ اے آئی اور سوشل میڈیا ہے۔ ہمارے پاس جتنے بھی لوگ آئے وہ اس صورت حال سے متاثر تھے۔‘
’بچے خود تو رپورٹ کر نہیں سکتے نہ انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے والدین کو بتا پاتے ہیں۔ جتنے بھی کیسز ہمارے پاس آئے ان میں زیادہ تر بہن بھائیوں اور دوستوں نے انہیں ہیلپ لائن تک پہنچنے میں مدد کی۔ وہ مزید قانونی کارروائی بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ان کی صرف ایک ہی درخواست تھی کہ ان سے متعلق مواد ہٹایا جائے جس میں ہم نے نہ صرف ان کی مدد کی بلکہ ان کی کونسلنگ بھی کی۔‘
اس سالانہ رپورٹ میں ڈیجیٹل ہراسانی پر اور بھی کئی طرح کے ٹرینڈز سامنے آئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہراسانی کے واقعات ایسے نوجوانوں نے رپورٹ کیے جن کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان ہیں جس سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ نوجوانوں میں اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن کی سربراہ نگہت داد کے مطابق واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام پر ہراسانی کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (فوٹو: میٹا)
ڈیجیٹل ہراسانی کا شکار ہونے والوں میں خواتین پہلے نمبر پر ہیں۔ ڈی آر ایف کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بدستور آن لائن ہراسانی کا مرکز ہیں اور واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام پر ہراسانی کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔‘
’ہم ادارہ جاتی غیر یقینی کے باوجود ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے نقصانات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے اس ہیلپ لائن کو سہارا بنا کر برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ ہم صرف تکنیکی مدد نہیں کرتے بلکہ تحفظ کو راستے بھی فراہم کرتے ہیں۔‘
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے پاکستان میں گزشتہ برس 94 صحافیوں نے بھی آن لائن متاثر ہونے پر اپنی شکایات درج کروائیں جن کا کسی نہ کسی طور پر ازالہ کیا گیا۔