گلگت بلتستان انتخابات، کیا اسلام آباد کی ’رسمِ حکومت‘ اس بار بھی برقرار رہے گی؟
جمعہ 5 جون 2026 5:38
فرحان احمد خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات سے محض چند روز قبل سیاسی گرما گرمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ’ناانصافی اور انتقامی کارروائیوں‘ کی شکایت کر رہی ہے۔
الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق تمام امیدواروں کے لیے 5 جون کی رات 12 بجے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو جائے گا جس کے بعد 7 جون کو خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پولنگ ہو گی۔
24 حلقے اور نو لاکھ سے زائد ووٹرز
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور تین نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابی حلقوں کی تقسیم پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کچھ یوں ہے:
گلگت، دیامر اور سکردو: یہ تینوں اضلاع سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔
غذر اور گانچھے: ان دونوں اضلاع میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
نگر اور استور: ان اضلاع کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔
ہنزہ، شگر اور کھرمنگ: یہ تینوں چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔
گلگت اسمبلی کی ان 24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 396 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 266 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کے لیے اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا ’بَلّا‘ بھی گیا اور ’پلیٹ فارم‘ بھی
پاکستان تحریک انصاف کو اس مرتبہ گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں متعدد قانونی اور انتظامی محاذوں پر سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔
فروری 2024 کے پاکستان کے عام انتخابات سے قبل ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر شفاف قرار دے کر اس کا انتخابی نشان ’بَلّا‘ واپس لے لیا تھا اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی یہی قانونی پوزیشن برقرار رہی۔
اس کے حل کے لیے ’گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ نامی نئی جماعت رجسٹر کرائی گئی تاہم جب پی ٹی آئی کے امیدوار اس پارٹی کے نشان (پولو مین) کے تحت الیکشن میں اترنے کا ارادہ کرنے لگے تو الیکشن کمیشن نے کچھ ’لازمی دستاویزات کی عدم فراہمی‘ کی بنیاد پر اس نئی جماعت کی رجسٹریشن بھی معطل کر دی جس کے باعث پی ٹی آئی کے امیدوار گلگت بلستان میں اب کسی واحد جماعتی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں۔
انتظامی سطح پر بھی پی ٹی آئی شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔
سکردو پہنچنے پر پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مقامی انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تاکہ ان کی سکردو کی فلائٹ مس ہو جائے۔
پی ٹی آئی رہنما علی تاج کا الزام ہے کہ خطے میں دفعہ 144 کا سہارا لے کر ان کے امیدواروں کو جلسے جلوسوں کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ گلگت میں پنجاب پولیس کی موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عبدالجبار ناصر نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’پی ٹی آئی کے امیدواروں کی مہم کی راہ میں ابتدائی طور پر انتظامی اور علاقائی سطح پر کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر کی ضلع بدری اور سلمان اکرم راجہ کو خیبرپختونخوا کے بارڈر سے واپس بھیجنا ایسے اقدامات ہیں جن پر نگراں حکومت کی پوزیشن کمزور ہے۔‘
گلگت بلتستان کے صحافی روشان دین دیامری ان دنوں انتخابی عمل سے قبل کے حالات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے انتخابی صف بندی کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ ’گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں سے چار پر انتخابی اتحاد کے تحت پی ٹی آئی مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)کی حمایت کر رہی ہے جبکہ 20 حلقوں میں پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مرتبہ پی ٹی آئی نے بہت سے کمزور پوزیشن رکھنے والے امیدواروں کو سامنے لایا ہے جبکہ 20 میں سے صرف تین امیدوار ایسے ہیں جن کی پوزیشن اور ماضی کا انتخابی ریکارڈ مستحکم ہے۔‘
موسمیاتی تبدیلی کا اہم ترین چیلنج کیوں نظرانداز ہوا؟
سیاسی جماعتوں کے منشور اور خطے کے حقیقی مسائل پر بات کرتے ہوئے عبدالجبار ناصر نے بتایا کہ ’یہ ایک اور اہم پہلو ہے کہ اس الیکشن سے قبل صرف مسلم لیگ (ن) ہی نے ایک باقاعدہ اور جامع منشور پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے منشور کے کچھ نکات دیکھے تھے لیکن مکمل منشور نہیں ملا۔‘
صحافی روشان دین دیامری نے خطے کے سب سے بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’گلگت بلتستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج موسمیاتی تبدیلی یا کلائمیٹ چینج کا درپیش ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے اس اہم ایشو کو اپنے منشور کا حصہ نہیں بنایا۔‘
بلاول کی وفاق پر کڑی تنقید اور ’اسلام آباد کے بابو‘ کا طعنہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بار خطے میں جارحانہ انتخابی مہم چلائی ہے۔ انہوں نے سکردو، شگر، چلاس، غذر اور گلگت میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔
بلاول بھٹو نے وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر وفاق کنگال ہو چکا ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی وزارت کو بند کیا جائے کیونکہ ان خطوں کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا کوئی ’بابو‘ نہیں بلکہ یہاں کے عوام خود کریں گے۔‘
انہوں نے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ مستقبل میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات بھی پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ ہی منعقد ہونے چاہییں۔
دوسری جانب وفاق میں برسرِاقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی جماعت کے دیگر مرکزی رہنما بھی گلگت بلتستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے اور وفاق میں حکومت ہونے کا فائدہ اٹھانے کے لیے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔
کیا کشمیر میں ہلچل گلگت بلتستان پر اثر انداز ہوتی ہے؟
گلگت بلتستان میں ہونے والے یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پڑوس میں واقع پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں بھی سیاسی درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ ایک طرف وہاں بھی عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی صف بندیاں تیز ہو رہی ہیں تو دوسری طرف عوامی حقوق کی تحریک ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکی ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے اس خطے میں حالیہ تین برسوں میں بڑے احتجاجی مارچ کیے ہیں جن میں ان کے مطالبات میں آٹے کی سبسڈی، بجلی کے بلوں میں کمی اور خطے کے آئینی حقوق کی فراہمی شامل رہے ہیں۔ اب عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ایک بہت بڑے احتجاجی مارچ کی تیاری کر رکھی ہے۔ چند دن قبل وزیراعظم پاکستان کی مقرر کردہ مذاکراتی ٹیم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مظفرآباد میں طویل مذاکرات بھی کیے تھے لیکن کمیٹی اپنے احتجاج کے فیصلے پر ابھی تک قائم ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والے سیاسی و عوامی تحرک کا ایک دوسرے پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، مصنف اور ماہرِ امورِ کشمیر منظور حسین گیلانی کا ماننا ہے کہ ان دونوں خطوں کی سیاست کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
انہوں نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گلگت بلتستان کے مقامی سیاست دانوں نے وزیرِ امورِ کشمیر کو اپنا حتمی باس تسلیم کر رکھا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے سیاست دان اسلام آباد کی حکومت کو اپنا باس مانتے ہیں۔
خطے کی سیاسی تاریخ کا موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گلگت والوں کی سیاسی سطح ابھی اتنی بلند نہیں ہوئی۔‘
جسٹس (ر) منظور حسین گیلانی نے مزید کہا کہ ’جہاں تک اس الیکشن کا تعلق ہے تو کشمیر کے سیاست دان اس سے بالکل لاتعلق نظر آتے ہیں۔ شاید ہی کسی نے کوئی بیان جاری کیا ہو۔ سچ یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سیاسی طور پر ایک دوسرے سے بالکل الگ انداز میں کام کرتے ہیں۔ اب یہاں جو سیاسی تحرک نظر آتا ہے وہ یہاں کے مقامی سیاسی رہنماؤں کے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیڈرز سے تعلق کی بنیاد پر ہے کیونکہ مقامی رہنما اسلام آباد کی پارٹیوں کے یہاں موجود آؤٹ لیٹس کے ساتھ وابستہ ہیں۔‘
گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت اور معاہدہ کراچی
گلگت بلتستان پاکستان کا ایک ایسا خطہ ہے جو آئینی اعتبار سے ایک منفرد، حساس اور پیچیدہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ پاکستان کا باقاعدہ صوبہ نہیں ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 1 میں پاکستان کی جو جغرافیائی تعریف کی گئی ہے اس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا واضح الفاظ میں ذکر نہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 257 کے تحت یہ (انڈیا اور پاکستان کے درمیان) متناز ع ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
یہ خطہ نومبر 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف کامیاب بغاوت کے بعد 16 روز کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست بھی رہا تھا۔ گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر 28 اپریل 1949ء کو طے پانے والے ’معاہدہ کراچی‘ کے تحت پاکستان کے سپرد کیا گیا تھا۔
اس معاہدے پر پاکستان کے نمائندوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی حکومت نے دستخط کیے تھے جس نے اس انتظامی ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔
انتخابی معرکے میں کس کا پلّہ بھاری ہے؟
اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سب سے نمایاں حریف کے طور پر آمنے سامنے ہیں۔
صحافی روشان دین دیامری کے مطابق ’اس کے علاوہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی پوزیشن بھی کچھ حلقوں میں اچھی ہے لیکن ان کے منشور کے جو نکات میں نے دیکھے ہیں وہ وفاقی منشور کی طرح کے ہیں، وہ گلگت بلتستان کی زمینی حقیقتوں سے بہت زیادہ ہم آہنگ نہیں لگتے۔‘
ان کے مطابق ’البتہ اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔‘
وہ حلقہ جہاں خواتین کے ووٹ ’فارمولے‘ کے تحت پڑتے ہیں
گلگت بلتستان کا ایک حلقہ ’جی بی اے 18، دیامر 4‘ ایسا ہے جہاں ضلع تانگیر میں خواتین کا الیکشن مہم میں حصہ لینا اور ووٹ ڈالنا ہمیشہ سے ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ یہ ابھی کچھ عرصہ قبل تک وزیراعلیٰ رہنے والے حاجی گلبر خان کا حلقہ انتخاب ہے۔
روشان دین دیامری نے اس حلقے کی صورتحال بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’یہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کے ووٹ کی جو کم از کم شرح مقرر ہے، اسے پورا کرنے کے لیے پولنگ والے دن کی شام تمام امیدوار بیٹھ کر کسی فارمولے کے تحت خواتین کے نام پر ووٹ پول کرتے رہے ہیں اور یوں الیکشن کمیشن کی لازمی شرط بھی پوری ہو جاتی ہے۔‘ تاہم الیکشن کمیشن حکام ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مہم چلانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
روشان دین دیامری کا کہنا تھا کہ ’اس مرتبہ تانگیر سے الیکشن میں دو خواتین امیدوار تو ہیں لیکن عام خواتین کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہے۔‘
سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کا تعلق استحکام پاکستان پارٹی سے ہے۔ انہوں نے ابھی دو ماہ قبل اپریل 2026 میں اپنے انتخابی حلقے میں ایک شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کہا تھا کہ ’تانگیر میں خواتین کی انتخابی مہم اور ووٹ ہماری روایات کے خلاف ہے۔‘
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس حلقے (جی بی اے 18، دیامر 4) میں خواتین ووٹرز کی کل تعداد 12 ہزار 664 جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 14 ہزار 255 ہے۔
’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کی روایت جو کبھی نہیں ٹوٹی
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک ایسا مسلمہ قاعدہ سامنے آتا ہے جو آج تک نہیں بدلا۔ سنہ 2009ء میں جب ’گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر‘ کے تحت یہاں باقاعدہ پارلیمانی نظام متعارف کروایا گیا، تب سے اب تک ہونے والے تینوں انتخابات میں یہاں ہمیشہ اسی جماعت نے حکومت بنائی جس کی اسلام آباد کے ایوانوں میں حکومت تھی۔
سنہ 2009کے انتخابات میں وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، چنانچہ گلگت بلتستان میں بھی پیپلز پارٹی نے میدان مارا اور پہلی حکومت بنائی۔
سنہ 2015 کے انتخابات میں اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) برسرِاقتدار آئی تو گلگت بلتستان کے عوام نے بھی مسلم لیگ (ن) کو بھاری اکثریت سے جتوایا۔
سنہ 2020 کے انتخابات میں وفاق میں عمران خان کی پی ٹی آئی حکمران تھی تو گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی 24 میں سے 9 نشستیں حاصل کر کے اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔
اب سنہ 2026ء میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے۔ اگر تاریخ خود کو دہراتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کی جیت کے امکانات روشن ہیں تاہم پیپلز پارٹی کی جاندار مہم اور پی ٹی آئی کا ہمدردی کا بیانیہ اس روایتی رجحان کے آڑے آ سکتا ہے۔
