Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی ڈرونز داغے جانے کے بعد امریکہ کی ایرانی ریڈار سائٹس پر بمباری

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو آبنائے ہرمز کی طرف داغے جانے والے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے بعض ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حملہ آور ڈرونز خطے میں بحری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
سینٹکام نے مزید بتایا کہ امریکی افواج نے مزید حملوں سے بچاؤ اور دفاع کے لیے گورک  اور جزیرہ قشم پر قائم ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار ٹھکانوں پر حملے کیے۔
اس سے قبل جمعے ہی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی جس کے باعث امریکی بحری جہاز بحر ہند کی طرف ’پیچھے ہٹنے‘ پر مجبور ہو گئے۔
سینٹکام نے موقف اپنایا کہ ’امریکی افواج خطے کے پانیوں میں آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کروا رہی ہیں۔‘
امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی یہ ناکہ بندی تہران کے اس اقدام کے جواب میں کر رہی ہے جس کے تحت اس نے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ترین راہداری کو بند کر رکھا ہے۔
ایران کے اس اقدام سے توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور وسط مدت کے کانگریس انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں آبنائے میں واقع ایک جزیرہ بھی شامل ہے۔

شیئر: