امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو آبنائے ہرمز کی طرف داغے جانے والے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کی بعض ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حملہ آور ڈرونز خطے میں بحری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
سینٹکام نے مزید بتایا کہ امریکی افواج نے مزید حملوں سے بچاؤ اور دفاع کے لیے گورک اور جزیرہ قشم پر قائم ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار ٹھکانوں پر حملے کیے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ میں سعودی سفارتخانے کی سپورٹس ڈپلومیسی سمٹ میں شرکتNode ID: 905001
اس سے قبل جمعے ہی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی جس کے باعث امریکی بحری جہاز بحر ہند کی طرف ’پیچھے ہٹنے‘ پر مجبور ہو گئے۔
سینٹکام نے موقف اپنایا کہ ’امریکی افواج خطے کے پانیوں میں آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کروا رہی ہیں۔‘
Moments ago, CENTCOM forces shot down four Iranian one-way attack drones that were launched toward the Strait of Hormuz. The attack drones posed an immediate threat to regional maritime traffic. U.S. forces subsequently struck Iranian coastal surveillance radar sites in Goruk and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 5, 2026
امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کی یہ ناکہ بندی تہران کے اس اقدام کے جواب میں کر رہی ہے جس کے تحت اس نے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ترین راہداری کو بند کر رکھا ہے۔
ایران کے اس اقدام سے توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور کانگریسکے وسطی مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں آبنائے میں واقع ایک جزیرہ بھی شامل ہے۔
جنگ بندی کو لاحق خطرات
یہ کارروائیاں ان متواتر حملوں کا تازہ ترین سلسلہ ہیں جنہوں نے موجودہ کمزور جنگ بندی اور اس میں توسیع کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایرانی ڈرونز نے کویت کے مرکزی ہوائی اڈے کے ایک مسافر ٹرمینل کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک، درجنوں زخمی ہوئے اور ہوائی اڈے کو کچھ دیر کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔
ان حملوں سے جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات بڑھ گئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے ساتھ صورتحال کافی اچھی چل رہی ہے۔‘
وسکونسن میں کسانوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم بہت جلد ایران کے معاملے سے باہر نکل آئیں گے اور یہ بہت مضبوط طریقہ ہو گا، خواہ یہ کاغذ کے ایک ٹکڑے (معاہدے) کے ذریعے ہو یا پھر انتہائی سخت راستے سے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’انتہائی سخت راستہ شاید زیادہ آسان راستہ ہے لیکن ہم اس سے نکلیں گے اور آپ کی کھاد کی قیمتیں بہت نیچے چلی جائیں گی، بالکل ویسے ہی جیسے چار ماہ پہلے تھیں۔‘
صدر ٹرمپ کی سیاسی مشکلات
جمعے کو جب این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ان (ایرانیوں) کے لیے بہت مشکل کام ہے۔‘
انہوں نے ایران کی ’عظیم آزادی‘ اور اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ ’وہ مضبوط اور غیرت مند ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا ’کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کریں گے لیکن اب انہیں وہ کرنا پڑیں گی۔ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔‘
ایران کا میزائل ذخیرہ اور لبنان کا محاذ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانیوں کے پاس اب بھی 21 سے 22 فیصد تک میزائل موجود ہیں۔
ان کی انتظامیہ نے لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد رواں ہفتے طے پانے والی تازہ ترین جنگ بندی سے متعلق بھی بات کی ہے۔ تاہم ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے اور نئے حملوں نے اسے مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کو جنوبی لبنان کے متعدد حصوں پر حملے کیے اور نو دیہاتوں کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کی جن میں ایک ایسا گاؤں بھی شامل ہے جہاں لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔













