امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو آبنائے ہرمز کی طرف داغے جانے والے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے بعض ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حملہ آور ڈرونز خطے میں بحری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
سینٹکام نے مزید بتایا کہ امریکی افواج نے مزید حملوں سے بچاؤ اور دفاع کے لیے گورک اور جزیرہ قشم پر قائم ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار ٹھکانوں پر حملے کیے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ میں سعودی سفارتخانے کی سپورٹس ڈپلومیسی سمٹ میں شرکتNode ID: 905001
اس سے قبل جمعے ہی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی جس کے باعث امریکی بحری جہاز بحر ہند کی طرف ’پیچھے ہٹنے‘ پر مجبور ہو گئے۔
سینٹکام نے موقف اپنایا کہ ’امریکی افواج خطے کے پانیوں میں آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کروا رہی ہیں۔‘
Moments ago, CENTCOM forces shot down four Iranian one-way attack drones that were launched toward the Strait of Hormuz. The attack drones posed an immediate threat to regional maritime traffic. U.S. forces subsequently struck Iranian coastal surveillance radar sites in Goruk and…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 5, 2026











