امریکی جج نے قانونی امیگریشن پر صدر ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیاں روک دیں
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے جمعے کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن پر عائد کئی پابندیوں کو روک دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ پابندیاں گذشتہ برس ایک افغان تارکِ وطن کی جانب سے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد عائد کی گئی تھیں۔
ڈسٹرکٹ جج جان میک کونل نے افریقی، ایشیائی، لاطینی امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے 39 ممالک کے شہریوں کے لیے پناہ، ورک پرمٹ، گرین کارڈ اور شہریت کی درخواستوں پر عائد پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
یہ پابندیاں 26 نومبر 2025 کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد نافذ کی گئی تھیں۔
نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا ایک افغان تھا جو طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد امریکہ منتقل ہوا تھا۔ اس حملے میں نیشنل گارڈز کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
جج میک کونل نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’امریکی شہریت و امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) کی جانب سے نافذ کی گئی سخت امیگریشن پالیسیوں نے امریکہ میں مقیم بے شمار تارکینِ وطن کی زندگیوں کو غیر یقینی قانونی صورت حال میں ڈال دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی شہریت و امیگریشن سروس کی جانب سے درخواستوں کو روکنے کی وجہ ان افراد کی کوئی غلطی نہیں بلکہ صرف ان کی جائے پیدائش ہے۔‘
جج میک کونل نے یہ بھی کہا کہ ’چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود متعدد افراد نہ روزگار حاصل کر پا رہے ہیں، نہ وہ کوئی قانونی حیثیت رکھتے ہیں، اور نہ ہی اپنے مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔‘
جج نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ ’عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ اقدامات قانون کے خلاف اور غیر معقول ہیں۔‘
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکہ میں مقیم لاکھوں غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی نیشنل گارڈ پر حملے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’تیسری دنیا کے تمام ممالک سے نقل مکانی مستقل طور پر روکنے‘ کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب گارڈز پر فائرنگ کے ملزم رحمان اللہ لکوال، افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے والی سی آئی اے کی حمایت یافتہ فورس کا حصہ رہ چکے ہیں۔
وہ 2021 میں افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد قائم کیے گئے آبادکاری پروگرام کے تحت امریکہ آئے تھے۔ انہوں نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے اور اب مقدمے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
