اسلام آباد میں مبینہ طور پر ’زہریلا‘ جُوس پینے سے شہریوں کی اموات، حقیقت کیا ہے؟
ہفتہ 18 اپریل 2026 20:08
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
13 اپریل کو اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال کی ایمرجنسی میں 37 سال کے مریض، احتشام کو لایا گیا۔
علاج کے دوران مریض نے ڈاکٹروں کو دیگر وجوہات کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں نے قریباً تین گھنٹے پہلے جُوس پیا تھا۔
مریض کو وہاں فوری اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم رات بھر الٹی، بے چینی اور دیگر طبی پیچیدگیاں برقرار رہیں۔ ڈاکٹروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود مریض کی حالت سنبھل نہ سکی اور وہ جانبر نہ ہو سکا۔
اسی طرح سی ڈی اے ہسپتال میں ہی 14 اپریل کو 22 سال کے علی کو لایا گیا، جو بعد ازاں انتقال کر گیا، تاہم اس مریض کی جُوس پینے کی کوئی ہسٹری موجود نہیں تھی، جبکہ اسی ہسپتال میں ایک اور واقعے میں 16 تاریخ کو آنے والی 17 سال کی لڑکی بھی کچھ دیر بعد چل بسی۔
ان میں سے کم از کم ایک مریض نے علاج کے دوران ڈاکٹرز کو یہ بتایا تھا کہ اس نے کچھ دیر قبل جوس پیا تھا، اس لیے یہ بات باہر نکلی اور سنیچر کو سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بہت زیادہ زیرِ بحث رہا کہ اسلام آباد میں مبینہ طور پر جُوس پینے سے اموات ہوئی ہیں۔
اردو نیوز نے اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ہسپتال کے عملے سے بھی گفتگو کی۔
ہمارے رابطہ کرنے اور سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد ضلعی انتظامیہ، ضلعی ہیلتھ آفیسر اور متعلقہ ہسپتال کی جانب سے تحقیقات کی گئیں، جس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ کسی بھی مریض کی ہلاکت جوس پینے سے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
حکام نے بتایا کہ 37 سال کے احتشام، جو سی ڈی اے کے ملازم تھے نے جُوس پینے کے ساتھ ساتھ گذشتہ 24 گھنٹوں سے سینے میں درد اور الُٹی کی شکایات بھی ظاہر کی تھیں اور ہسپتال پہنچنے کے قریباً چار گھنٹے بعد ان کی موت ہوئی۔
ان کے مطابق اس لیے دستیاب شواہد کی بنیاد پر صرف جُوس پینے کو اس کی موت کی وجہ قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 14 اپریل کو داخل ہونے والے 22 سال کے مریض، علی کو بھی انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا، تاہم اُن کے حوالے سے کسی قسم کی خوراک یا جُوس پینے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے وضاحت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے بعد اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے متاثرہ علاقے میں تمام جُوس کارنرز اور سپر سٹورز کا معائنہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس دوران کسی بھی جگہ سے کوئی مضرِ صحت یا مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی، جبکہ متاثرہ خاندان بھی جُوس کی خریداری سے متعلق واضح معلومات فراہم نہیں کر سکا۔‘
’اس حوالے سے ہم نے متاثرہ خاندان کے ایک فرد سے بھی رابطہ کیا، تاہم انہوں نے فی الحال اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا ہے۔‘
اس سے قبل اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال کی ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ اس رات ڈیوٹی پر موجود نرس نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ ایک مریض کو لایا گیا۔
’نرس نے یہ بھی بتایا تھا کہ مریض نے کچھ دیر قبل ستارہ مارکیٹ سے جُوس پیا تھا۔ مریض کو مستحکم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، لیکن وہ چند گھنٹے بعد جانبر نہ ہو سکا۔‘
اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مریض کے ساتھ آنے والا اس کا دوست بھی صبح تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچا اور بعد ازاں چل بسا۔
ابتدائی طور پر دونوں افراد نے یہ بتایا تھا کہ انہوں نے کہیں سے جُوس پیا تھا۔
تاہم ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ ہسپتال کو صرف یہ معلومات دی گئی تھیں، لیکن موت کی وجہ زہریلا جُوس پینا ثابت نہیں ہوا، البتہ اس حوالے سے شکایت ضرور سامنے آئی تھی۔
اس کے بعد اسلام آباد کے شہری تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے، تاہم ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے واضح کیا ہے کہ شہر میں کسی قسم کے زہریلے جُوس کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور شہری غیر ضروری خبروں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
دوسری جانب پولی کلینک اور اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے ترجمان نے بھی اردو نیوز سے گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ مبینہ طور پر زہریلا جوس پینے سے کسی مریض کی ہلاکت ہوئی ہے۔