ایران نے دنیا کی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول دوبارہ سکت کردیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ ایران کے اس اقدام سے بلیک میل نہیں ہو گا۔‘
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم سے کم دو تجارتی بحری جہازوں نے بتایا ہے کہ سنیچر کے روز اس اہم سمندری گزرگاہ کو عبور کرتے ہوئے وہ گولیوں کی زد میں آگئے۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق انہیں یہ بات بحری سکیورٹی اور جہاز رانی کے تین ذرائع نے ایران کے اس بیان کے فوری بعد بتائی جس میں کہا گیا تھا کہ ’وہ آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول ایک بار پھر بڑھا رہا ہے۔‘
اس سے قبل میری ٹائم ٹریکرز نے سات ہفتے قبل ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ آبنائے ہُرمز سے آٹھ آئل ٹینکرز کے قافلے کو گزرتے ہوئے دکھایا تھا۔
تاہم اس کے بعد ایران کا کہنا تھا کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنا فوجی کنٹرول دوبارہ سخت کر رہا ہے، جہاں سے بین الاقوامی تجارت کے قریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایران کے مطابق اس نے یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے اعلان کے بعد اٹھایا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی بحریہ اپنے دُشمنوں کو ’نئی عبرت ناک شکست‘ دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کرنے کے اعلان کے اسے تنبہہہ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔ وہ دوبارہ آبنائے بند کرنا چاہتے تھے۔ آپ جانتے ہیں، جیسے وہ برسوں سے کرتے آئے ہیں، اور وہ ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتے۔‘

اس سے قبل ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ’اگر ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘
ایران نے چند گھنٹے قبل عندیہ دیا تھا کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو وہ آبنائے ہُرمز کو دوبارہ بند کر سکتا ہے جس کو اس نے جنگ کے باعث کئی روز کی بندش کے بعد جمعے کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
نئی امن تجاویز
ایران نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے سنیچر کو ہی ایک بیان میں بتایا کہ ’یہ امریکی تجاویز پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پیش کی گئیں۔‘
’پاکستان کے آرمی چیف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ثالث کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اور انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ تہران کے دوران یہ تجاویز ایران کو پیش کیں جن کا تاحال جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’ان تجاویز میں کیا ہے۔‘
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ’ایران نے تاحال ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا، تاہم مزید بات چیت کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ زیادہ مطالبات ترک کرے اور زمینی حقائق کے مطابق درخواستیں کرے۔‘
’ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر اس وقت تک مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا جب تک کہ ’جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو جاتا۔‘
سکیورٹی کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ایران، آبنائے ہُرمز میں سے گزرنے والے جہازوں کی تفصیلی معلومات جمع کرے گا، انہیں ٹرانزٹ سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا اور اُن پر ٹول بھی عائد کرے گا۔‘
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ان نئی تجاویز کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔












