Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث لگژی گھڑیوں کی فروخت بھی متاثر

ایسے خریداروں کی تعداد کم ہو گئی ہے جو اپنی پسندیدہ گھڑی پر 60 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں (فوٹو: اے ایف پی)
’دولت اور نفاست‘ کا اظہار اس قدر بلیغ انداز میں شاید ہی کسی اور چیز سے ہوتا ہو جتنا کلائی پر بندھی رولیکس گھڑی یا بازو پر لٹک رہے لوئی وٹون بیگ سے ہوتا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے لگژری اشیا بنانے والوں کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اس تنازع نے سپلائی چین کو تو متاثر کیا ہی ہے بلکہ ایئرپورٹس پر ڈیوٹی فری خریداری میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ بیش قیمت دھاتوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خریداروں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے جو کسی پسندیدہ گھڑی پر 60 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں۔
مشرقِ وسطیٰ میں فروخت خاص طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو گھڑیوں کی عالمی منڈی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے ۔ سوئس واچ فیڈریشن کے چیف اکانومسٹ فلپ پیگورارو کے مطابق، ’اعتماد کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔‘
مارچ کے باضابطہ برآمداتی اعداد و شمار ابھی اس ماہ کے آخر میں جاری ہوں گے۔ فلپ پیگورارو نے جنیوا میں منگل کو شروع ہونے والی سالانہ واچز اینڈ ونڈرز نمائش کے موقع پر کہا کہ ’اس وقت ہم فروخت میں تیزی سے کمی کا خدشہ محسوس کر رہے ہیں‘ جس کی وجہ لاجسٹک مسائل اور کمزور طلب ہے۔
انڈسٹری کے تجزیہ کار جان کاکس نے کہا کہ ’یہ جنگ بحث کی ایک بڑی وجہ بننے جا رہی ہے۔‘ وہ جنگ سے قبل 2026 میں سوئس گھڑیوں کی برآمدات میں تقریباً 5 فیصد اضافے کی پیش گوئی کر رہے تھے، لیکن اب ان کے مطابق اس تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث یہ شعبہ ’سست روی سے ترقی‘ کا سامنا کرے گا۔

لگژری مصنوعات بنانے والے دنیا کے سب سے بڑے گروپ ایل وی ایم ایچ کی فروخت بھی سال کے پہلے تین مہینوں میں 6 فیصد کم ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

صرف لگثری گھڑیوں کا کاروبار ہی متاثر نہیں ہوا۔ دنیا کے سب سے بڑے لگژری گروپ ایل وی ایم ایچ، جو لوئی وٹون بیگز، ڈیور فیشن اور ٹفنی جیولری کے لیے مشہور ہے، کی فروخت سال کے پہلے تین مہینوں میں 6 فیصد کم ہو گئی، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کاروباری سست روی ہے۔
کمپنی کی چیف فنانشل آفیسر سیسیل کابانیس نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جنگ کے حتمی اثرات کیا ہوں گے۔ ان کے مطابق، ’ہم جانتے ہیں کہ دولت ختم نہیں ہوئی، ممکن ہے ایک وقت آئے جب دوبارہ اس کی ریل پیل ہو اور  اگر تنازع جاری رہا تو یہ اس کے اثرات کو کسی حد تک کم کر دے۔‘

 

شیئر: