’صومالی لینڈ‘ میں اسرائیلی سفارتی نمائندے کا تقرر، سعودی عرب، پاکستان سمیت 12 مسلم ممالک کی مذمت
صومالیہ کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت 12 اسلامی وعرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے نام نہاد ’صومالی لینڈ‘ میں سفارتی نمائندے کے تقرر کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی عرب، مصر، صومالیہ، سوڈان، لیبیا، بنگلہ دیش، الجزائر، فلسطین، کویت، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اس اقدام کو صومالیہ کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزرائے خارجہ نے ان تمام یکطرفہ اقدامات کو دوٹوک مسترد کیے جانے کا اعادہ کیا جو ریاستوں کے اتحاد کو کمزور کرنے یا ان ان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں صومالیہ کے اتحاد، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سپورٹ کا بھی اعادہ کیا گیا اور اس کے جائز ریاستی اداروں کی حمایت کی جو صومالی عوام کی امنگوں کے واحد نمائندہ ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس طرح کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے اصولوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور افریقی یونین کے آئینی ایکٹ کی صریح خلاف ورزی اور ایک’ خطرناک مثال‘ قرار دیا۔
’اس سے نہ صرف قرن افریقہ’ہارن آف افریقہ‘ کے خطے میں استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، بلکہ مجموعی طور پر علاقائی امن اور سلامتی پر منفی اثرات پڑیں گے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال دسمبر میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کی خطے کے ممالک اور او آئی سی کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی۔
