لاہور: درباروں کے نذرانوں اور چندوں میں ’بڑے پیمانے پر گھپلے‘، متعدد سرکاری افسران اور اہلکاروں کو سزائیں
جمعرات 4 جون 2026 19:23
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں درباروں کے چندے غائب کرنے پر سرکاری افسران اور اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے۔
محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ’مالیاتی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے دربار کے نذرانے اور چندہ فنڈز میں بڑے پیمانے پر ہونے والے منظم غبن اور غفلت کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی اور کڑی تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔‘
صوبائی وزیر اوقاف چوہدری شافع حسین اور اوقاف بورڈ کی ہدایات پر سیکریٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کی گئی۔
پانچ سابق اعلیٰ افسران اور نگرانوں پر بھاری جرمانے، برطرفی اور تنزلی جیسی سخت سزائیں عائد کی گئی ہیں، جبکہ ملزمان سے مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
غبن میں ملوث مرکزی کردار اور سزاؤں کی تفصیل
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری تحقیقاتی رپورٹ اور بعد میں جاری ہونے والے احکامات کے متن کے مطابق اس میگا کرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم اور ایک دربار کے سابق مینیجر طاہر مقصود کو ان کے عہدے اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
ان پر 1 کروڑ 13 لاکھ 25 ہزار روپے کی انفرادی مالیاتی ریکوری عائد کی گئی ہے، جو کہ ان کے 55 فیصد واجب الادا حصے کے مطابق بنتی ہے، جبکہ ان پر مستقبل میں کسی بھی فیلڈ پوسٹنگ پر مستقل پابندی لگا دی گئی ہے۔
ایک بڑے دربار کے سابق ایڈمنسٹریٹر شیخ جمیل احمد کی ان کے مستقل عہدے سے 5 سال کے لیے تنزلی کر دی گئی ہے، ان کی گذشتہ 5 سال کی سروس ضبط کر کے اُن پر 92 لاکھ روپے کی ذاتی مالیاتی ریکوری عائد کی گئی ہے۔
ایڈمنسٹریٹر آفس کے سابق سٹینوگرافر ثاقب نسیم کی چار سال کی سروس ضبط کر کے ان پر کسی بھی حساس برانچ، ایڈمنسٹریٹر آفس، میڈیا سیل یا سی سی ٹی وی اور سکیورٹی سیکشن میں تعیناتی پر انتظامی پابندی لگا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، سابق نگراں نُور حسین کی تین سال کے لیے سالانہ ترقیاں روک دی گئی ہیں اور انہیں کسی بھی بڑے مزار پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ایک اور سابق نگراں محمد شریف کو، اگرچہ اس انکوائری سے بَری کر دیا گیا تھا، لیکن زائر سے پیسے چوری کرنے کی ایک حالیہ وائرل ویڈیو سامنے آنے پر ان کے خلاف الگ سے انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور اُن پر دربار سمیت کسی بھی بڑے مزار پر تعیناتی پر مستقل پابندی لگا دی گئی ہے۔
بدعنوانی کا طریقہ کار اور ملزمان کی گرفتاری
یہ منظم نیٹ ورک اس وقت بے نقاب ہوا جب محکمہ اوقاف کے ہیڈ آفس سے ایک خصوصی مانیٹرنگ ٹیم مزارات پر نذرانے کے بکسے کھولنے کے عمل کی نگرانی کے لیے بھیجی گئی۔
تحقیقات کے دوران مانیٹرنگ ٹیم نے جب 6 ماہ تک ایک بڑے دربار پر نذرانے کے بکسے کھولنے کے عمل کی سخت نگرانی کی، تو حیرت انگیز طور پر مزار کی چندہ آمدن 44 لاکھ 80 ہزار روپے سے بڑھ کر 75 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
اس عرصے کے دوران اس میں 30 فیصد سے 150 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب مزار پر جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے زائرین کی آمدورفت میں قریباً 50 فیصد کمی واقع ہو چکی تھی۔
اسی طرح مزار بی بی پاک دامن پر بھی نگرانی کے دوران چندہ آمدن میں 25 سے 90 فیصد اور زری کے عطیات میں 92 سے 407 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس آڈٹ اور تقابلی جائزے نے ثابت کر دیا کہ ماضی میں جب یہ افسران تعینات تھے، تو نذرانے کے بکسوں سے لاکھوں روپے کی رقم باقاعدہ منظم طریقے سے چوری کر کے سرکاری خزانے کو چُونا لگایا جا رہا تھا۔
اگر محکمہ اوقاف کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر ایک ہی وقت میں کئی بااثر افسران اور ملازمین کو کٹہرے میں لا کر ملازمت سے نکالنے، تنزلی کرنے اور کروڑوں روپے کی ذاتی ریکوری ڈالنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ماضی میں مزارات پر چندے کی چوری یا غبن کے واقعات سامنے آنے پر بااثر ملازمین سیاسی اثرورسوخ یا محکمے کی اندرونی ملی بھگت سے بچ نکلتے تھے اور محض چند دن کی معطلی کے بعد دوبارہ بحال ہو جاتے تھے۔
سیکریٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا ہے کہ مقدس مذہبی اداروں اور صوفیا کے مزارات کے اندر کرپشن عوام کے اعتماد اور ایک مقدس امانت کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ محکمے کے اندر بدعنوانی کے نیٹ ورک کو بلاامتیاز قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا تاکہ زائرین جو رقم انتہائی عقیدت کے ساتھ مزارات پر پیش کرتے ہیں، اس کا ایک ایک روپیہ صرف اور صرف زائرین کی سہولیات، لنگر خانوں کی بہتری اور سماجی بہبود پر ہی خرچ ہوگا۔
خیال رہے کہ حکومت نے مزارات کے چندے کے نظام کو ڈیجیٹل کرنے کا کام بھی شروع رکھا ہے۔ محکمہ اوقاف پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے مزارات پر ڈیجیٹل چندہ دینے کا ایک جدید اور جامع نظام وضع کر رہا ہے۔
اس منصوبے کی شروعات لگ بھگ دو سال قبل کی گئی تھی، جس کا مقصد مزارات کے نقد چندے اور روایتی پرچی سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنا تھا۔
اب تک اس منصوبے کا ایک بڑا اور اہم حصہ مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے تحت ایک بڑے دربار سمیت پنجاب کے تمام بڑے مزارات پر آن لائن بینکنگ لنکس، کیو آر کوڈز اور مخصوص کائیوسکس مشینیں نصب کی جا رہی ہیں جبکہ آن لائن لنگر اور چندہ فنڈز کے لیے خصوصی ڈیجیٹل ایپلی کیشن کی تیاری بھی حتمی مرحلے میں ہے۔