Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ سے مسترد، پھانسی کا فیصلہ برقرار

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے طویل قانونی بحث اور شواہد کا ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد گزشتہ سال 20 مئی 2025 کو سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ جاری کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق سفارت کار شوکت مقدم کی 27 سال کی بیٹی کے قتل کے مجرم کی اپیل پر سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
عدالتِ عظمی نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مقدمے میں موجود ناقابلِ تردید شواہد کی روشنی میں مجرم کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔
عدالتِ نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی ہے۔
یاد رہے کہ سزائے موت یافتہ مجرم ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کی تھی۔

نظر ثانی درخواست کی سماعت میں کیا ہوا؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی اپیل پر آخری سماعت لگ بھگ چار گھنٹے تک جاری رہی۔
سماعت کے دوران جب مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل کا آغاز کیا، تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میں سب سے پہلے یہ تسلیم کرتا ہوں کہ مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں، میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ میرا موکل وقوعہ کے وقت موجود تھا۔‘
وکیل ظاہر جعفر کا کہنا تھا کہ ’میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ میرے موکل نے قتل نہیں کیا، وقوعہ اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہیں۔‘
خواجہ حارث نے اپنے دلائل کے دوران مزید بتایا کہ ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آ جاتا ہے۔
اس دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ دکھائیں کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا اور وقوعہ کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں؟
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے  کہ یہ بھی ثابت کریں کہ مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، مجرم کی سکول، کالج یا یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری بھی ہوگی۔
دورانِ سماعت خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک کے ایک خط  بھی عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ اس خط پر تو سن 2022 کی تاریخ درج ہے، کیا مجرم واقعے کے بعد خود خط لینے لندن گیا تھا؟

20 جولائی 2021 کو  27 سالہ نور مقدم کو سیکٹر F-7/4 میں واقع ظاہر جعفر کے گھر پر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ (فوٹو: فیس بک)

مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت  سے سوال کیا کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا؟ ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی، اس کے دباؤ میں آ کر میرے موکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے کہا کہ عدالت فیصلہ نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے اور نہ ہی ہم سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتے ہیں۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل میں تضاد ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ وقوعہ کے وقت اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات حاصل کر لی جاتیں تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
دورانِ سماعت مقتولہ نور مقدم کے وکیل شاہ خاور نے اپنے دلائل میں بتایا کہ مجرم کی 20 جولائی کو وقوعہ کی جگہ سے گرفتاری ہوئی، جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ کے عرصے کے دوران بھی مجرم کو سینیئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں چالان، فردِ جرم اور جرح کے دوران بھی لاہور کے فوجداری امور کے سینئر وکیل کی خدمات حاصل رہیں۔
شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج مجرم کے وکیل تھے، اس کے علاوہ عدالت نے سٹیٹ کونسل بھی مقرر کیا، ملزم نے دفعہ 342 اور 265 کے بیانات بھی خود ریکارڈ کرائے۔
’بیان سے دیکھا جا سکتا ہے کہ مجرم دماغی طور پر بالکل صحت مند ہے، جبکہ مجرم کے والدین بھی کیس میں ملوث ملزمان تھے، انہیں بھی سینیئر وکلا کی خدمات میسر تھیں۔‘
شاہ خاور نے یہ بھی بتایا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے بھی خود اور جیل ڈاکٹر سے مجرم کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا تھا۔

شاہ خاور نے یہ بھی بتایا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے بھی خود اور جیل ڈاکٹر سے مجرم کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سماعت مکمل ہونے پر جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کر دی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدرِ مملکت آصف زرداری سے بھی اپیل کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل مسترد کریں صدرِ مملکت کی اپنی بھی دو بیٹیاں ہیں، وہ ان سے اپیل کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل کو مسترد کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیٹیوں اور بچوں کو یہی پیغام دوں گا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سزا پر عمل درآمد ہونا چاہیے، ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور وہ میڈیا کے بھی مشکور ہیں۔

ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست

نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی درخواست جولائی 2025 میں دائر کی گئی تھی۔
یہ درخواست سپریم کورٹ کے 20 مئی 2025 کے اس تفصیلی فیصلے کے بعد دائر کی گئی تھی جس میں عدالت نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

نور مقدم کا قتل کب ہوا؟

20 جولائی 2021 کو سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کو اسلام آباد کے سیکٹر F-7/4 میں واقع ظاہر جعفر کے گھر پر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

پولیس نے وقوعہ سے خون آلود خنجر اور آلہ قتل سمیت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کرتے ہوئے واقعے کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا۔

چالان اور ٹرائل کورٹ کا تاریخی فیصلہ

کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش تیزی سے مکمل کی گئی اور چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ ساڑھے چار ماہ تک چلنے والے باقاعدہ ٹرائل کے بعد، 24 فروری 2022 کو اسلام آباد کی سیشن عدالت کے جج عطاء ربانی نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی۔
عدالت نے دیگر شریک ملزمان (گھریلو ملازمین) کو اعانتِ جرم پر قید کی سزائیں سنائیں جبکہ ظاہر جعفر کے والدین کو عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے سزا کی توثیق

مجرم ظاہر جعفر نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ نے تفصیلی سماعت کے بعد 13 مارچ 2023 کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور مجرم کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔

سپریم کورٹ کا بنیادی فیصلہ

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مجرم نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے طویل قانونی بحث اور شواہد کا ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد گزشتہ سال 20 مئی 2025 کو اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے ظاہر جعفر کی اپیل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

نظرِ ثانی درخواست اور حتمی فیصلہ

بعد ازاں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد قانونی حق استعمال کرتے ہوئے مجرم کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جولائی 2025 میں ایک نظرِ ثانی درخواست دائر کی گئی۔
اس درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وقوعہ اور ٹرائل کے وقت مجرم ذہنی مریض (شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار) تھا، اس لیے اس کی سزا پر دوبارہ غور کیا جائے اور میڈیکل بورڈ بنایا جائے۔
تاہم آج سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس نظرِ ثانی درخواست پر چار گھنٹے طویل تفصیلی سماعت مکمل کرنے کے بعد مجرم کی میڈیکل بورڈ کی استدعا اور اپیل دونوں کو خارج کر دیا اور اب سزا پر عمل درآمد روکنے کے لیے صرف صدرِ مملکت کے پاس رحم کی اپیل کا آخری آپشن باقی بچا ہے۔

شیئر: