Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے: شہباز شریف

شہباز شریف نے کہا کہ ’نیٹلی بیکر کی فعال سفارت کاری نے دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مدد کی‘ (فوٹو: امریکی سفارت خانہ)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔‘
جمعرات کو اسلام آباد میں امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کو امن کے ایک داعی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ہم جنوبی ایشیا میں قیام امن کے صدر ٹرمپ کے کردار کے ہمیشہ شکرگزار رہیں گے۔‘
شہباز شریف نے اس موقعے پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے کردار کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے فعال سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
’نیٹلی بیکر پاکستان میں رہ کر بہت اچھا کام کر رہی ہیں، اِن کی متحرک، پُرجوش، مخلصانہ اور فعال سفارت کاری نے دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مدد کی۔‘
وزیراعظم کے مطابق ’امریکی سفارت خانے اور پاکستان بھر میں امریکی قونصل خانوں کی ٹیموں کی انتھک محنت سے دونوں ممالک کی شراکت داری مضبوط ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔‘
’ہم اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکرگزار ہیں اور ہم دعاگو ہیں کہ خطے میں جلد پائیدار امن قائم ہو۔‘
’آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’دونوں ممالک انسداد دہشت گردی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں۔‘

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہترین شراکت داری قائم ہے‘ (فوٹو: امریکی سفارت خانہ)

’پاکستان اور امریکہ کا تعلق قریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہے، پاکستان میں امریکہ کی 80 بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ’پاکستان اور امریکہ نے تاریخ کے اہم ترین ادوار میں مل کر کام کیا ہے، 10 لاکھ پاکستانی نژاد امریکی دونوں ممالک کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
’قیام پاکستان کے بعد امریکہ ان اولین ملکوں میں تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا، دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری قابلِ تحسین ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد نے اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلٰی سطح کے مذاکرات کی میزبانی کی اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں منفرد کردار ادا کیا۔‘
نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہترین شراکت داری قائم ہے اور ہماری سٹریٹجک شراکت داری ایک جذبے کے تحت ہے۔‘

شیئر: