Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ممکنہ امن معاہدہ، ’امریکہ ایرانی یورینیم کو تحویل میں لے کر تلف کرے گا‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ مستقبل میں ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے زیرِِغور امن معاہدے پر (آج) اتوار کو دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہُرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’معاہدے پر اتوار دستخط ہونا طے ہے، اور دستخط ہوتے ہی آبنائے ہُرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔‘
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے موقف سے متصادم ہے، جس نے سنیچر کو کہا تھا کہ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، اگرچہ آئندہ چند دنوں میں پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی عندیہ دیا کہ ’امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں تلف کرے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مناسب وقت پر، جب حالات پُرسکون ہوں گے، ہم گہرے پہاڑوں کے نیچے دفن جوہری مواد نکالیں گے اور اسے کم درجے پر لا کر تباہ کر دیں گے، چاہے یہ عمل ایران میں ہو یا امریکہ میں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’وہ مستقبل میں ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔‘
تاہم انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’امید ہے یہ عمل جلد، آسانی اور کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے امید ہے دوبارہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
دوسری جانب ایران مذاکرات کے پورے عمل کے دوران اپنے جوہری پروگرام کے تحت یورینیم افزودہ کرنے کے حق پر مسلسل اصرار کرتا رہا ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان ایک اہم اختلافی نکتہ ہے۔
اس سے قبل ان مذاکرات میں اہم ثالث پاکستان کے وزیراعظم نے بھی کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران ایک ایسے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ کرے گا، اور معاہدے کا حتمی متن بھی طے پا چکا ہے۔’
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان اب الیکٹرانک دستخط کے عمل کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد آئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔‘

شیئر: