ایران کا داخلی بحران مزید گہرا، ایرانی عوام جنگ کی تھکن اور بڑھتی مہنگائی کے دباؤ میں
ایران کا داخلی بحران مزید گہرا، ایرانی عوام جنگ کی تھکن اور بڑھتی مہنگائی کے دباؤ میں
ہفتہ 13 جون 2026 20:16
ایران کی کرنسی ریال کی قدر بھی شدید گر چکی ہے، اور گزشتہ ایک سال میں اس کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے عوام اس وقت الجھن اور تھکن کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں، جہاں ملک جنگ اور اندرونی معاشی و سیاسی بحرانوں کے دباؤ میں مزید دبا ہوا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کردہ جنگ کے دوران سٹیل، پیٹروکیمیکل صنعتوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے کاروبار کی بندش اور بے روزگاری میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ عام شہریوں کے لیے روزمرہ اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔
عوام امن کے خواہشمند
بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور جنگ کے خطرے نے عوام کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران کے 19 سالہ سٹریٹ وینڈر ہوراز احمدی نے کہا کہ وہ دوبارہ لڑائی سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ کر پائیں گے، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ وہ کر لیں۔ امن جنگ سے بہتر ہے۔ جنگوں میں نے گناہ لوگ مرتے ہیں، میں نے خود ایک رشتہ دار کھویا ہے۔‘
گزشتہ ایک سال میں ایرانی عوام دو بڑی جنگوں سے گزر چکے ہیں، جن میں 2025 کی 12 روزہ ایران، اسرائیل جنگ اور 28 فروری سے شروع ہونے والا امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ حملہ شامل ہے۔
حالیہ امریکی حملوں کے بعد تہران میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت پھیل گئی۔ ایک شہری کے مطابق دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی آوازوں نے شہر میں ’تقریباً آدھے گھنٹے کی گھبراہٹ‘ پیدا کی۔ اگرچہ کچھ گھنٹوں بعد زندگی معمول پر آگئی، لیکن خوف برقرار رہا۔
’جنگ بھی معمول بنتی جا رہی ہے‘
ایک شہری نے کہا کہ ’جنگ بھی اب معمول بنتی جا رہی ہے، اور یہ بہت تشویشناک ہے۔‘
ایرانی تاجروں اور صنعتکاروں کے مطابق غیر یقینی صورتحال نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے لوگوں کو مستقبل کی منصوبہ بندی سے محروم کر دیا ہے۔
معیشت شدید دباؤ میں
ایرانی تاجروں اور صنعتکاروں کے مطابق غیر یقینی صورتحال نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صنعتی انجمن کے ایک رکن نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ خام مال اور سپلائی چین میں رکاوٹ ہے۔
تہران میں وینٹیلیشن سسٹم بنانے والے ایک تاجر نے کہا کہ ’معاشرے کو استحکام چاہیے، لوگ مزید جنگ نہیں چاہتے۔‘
ایران کی کرنسی ریال کی قدر بھی شدید گر چکی ہے، اور گزشتہ ایک سال میں اس کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔
معاشی بحران سے سماجی بے چینی
معاشی مشکلات نے ملک میں احتجاج اور بے چینی کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جنوری میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
تہران کی ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کہا کہ ’یہ جنگ ہمارے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیں۔‘
امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ’باعزت راستہ‘ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن موجودہ کشیدگی نے خطے کو مسلسل بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔