العلا کی چٹانوں پر کندہ نقوش اور تحریریں، عازمینِ حج کے ’طویل اور روحانی سفر کی گواہ‘
جبل عکمہ پر سینکڑوں تحریریں مختلف زبانوں میں اب بھی محفوظ ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
العلا کمشنری ایک بھرپور تاریخی ورثہ اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ یہاں موجود اسلامی دور کے چٹانی نقوش نمایاں ہیں جن پر ماضی میں گزرنے والے حجاج اور زائرین نے اپنی یادداشتیں ثبت کیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ العلا کمشنری عہدِ قدیم سے ہی حجاج کے قافلوں کے راستے کا ایک اہم پڑاؤ تھا جہاں سے حجاج اور تاجروں کے قافلے گزرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس کا شمار ماضی کی ایک مرکزی گزرگاہ کے طور پر کیا جاتا تھا۔

العلا کمشنری محض ایک گزرگاہ ہی نہیں بلکہ تہذیبی رابطے اور انسانی میل جول کا اہم مرکز بھی تھی۔ یہاں سے گزرنے والوں نے جابجا اپنی نشانیاں چھوڑی ہیں جو آج بھی چٹانوں پر کندہ ہیں۔
یہاں پائے جانے والے اسلامی دور کے چٹانی نقوش نمایاں اور کھلے صفحات کی مانند ہیں جن پر حجاج اور زائرین نے اپنے ایمانی سفر کی کیفیات اوریادیں درج کیں تاکہ یہ نقوش ان کے طویل سفر، روحانی احساسات اور راستے کے تجربات کے گواہ رہیں۔

یہ نقوش علاقے کے مختلف مقامات پر پہاڑوں اور چٹانوں پر پھیلے ہوئے ہیں جہاں زائرین نے دعائیہ کلمات، اپنے نام اور یہاں سے گزرنے کی تاریخیں بھی درج کیں اور ایسی تحریریں چھوڑیں جو امید، شوق اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہاں پائے جانے والے چٹانی آثار العلا کے ثقافتی حسن کا بھی اہم حصہ ہیں جو سیاحوں کو مختلف مقامات پر اس ورثے کی جھلک دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ان مقامات میں سب سے نمایاں جبل عکمہ ہے جہاں سینکڑوں تحریریں مختلف زبانوں میں اب بھی محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی مقامات ہیں جو تاریخ کی گہرائی اور مقام کی روحانیت کو یکجا کرتے ہیں۔
متعلقہ ادارے ان نقوش پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان پر تحقیق کا کام بھی کر رہے ہیں کیونکہ یہ سفر کی تاریخ اور اس سے جڑی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا ایک اہم علمی ذریعہ بھی ہیں۔