پاکستان کا مقامی طور پر تیارکردہ سٹیلائٹ کا کامیاب تجربہ، ’خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگِ میل‘
پاکستان کا مقامی طور پر تیارکردہ سٹیلائٹ کا کامیاب تجربہ، ’خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگِ میل‘
ہفتہ 25 اپریل 2026 17:48
پاکستان نے اپنا مقامی طور پر تیارکردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او 3 کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے یہ سیٹلائٹ چین کے تائی یوان سیٹلائٹ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا۔ یہ اقدام پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اور بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ای او 3 اپنے بنیادی تصویری مشن کے علاوہ جدید تجرباتی پے لوڈز بھی لے کر جا رہا ہے جن کا مقصد جدید خلائی ٹیکنالوجیز کی جانچ اور توثیق کرنا ہے۔ اس میں ایک ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول شامل ہے جو تصویری درستی کو مزید بہتر بناتا ہے، ایک توانائی ذخیرہ کرنے کا جدید نظام، اور ایک آن بورڈ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ بھی شامل ہے جو حقیقی وقت میں تجزیہ اور فیصلہ سازی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ای او 3 کے شامل ہونے سے پاکستان کی زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹس کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ مربوط نظام ڈیٹا کے تسلسل، تصویری اور تجزیاتی درستی کو بہتر بنائے گا، جس سے ملک کے مختلف سماجی و معاشی شعبوں میں استعمال ہونے والی معلومات زیادہ مؤثر ہو جائیں گی۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اس کامیابی پر سپارکو کے سائنس دانوں اور انجینیئرز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ’حکومت پاکستان کے خلائی پروگرام کو مزید ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں چین کے مسلسل تعاون پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیابی پر سائنس دانوں اور انجینیئرز کو خراج تحسین پیش کیا ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے سپارکو کی تکنیکی مہارت اور محنت کی تعریف کی۔ انہوں نے اس لانچ کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ حکومت ملک کی خلائی شعبے میں موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔